گروہی سوچ اور منتشر بلوچ قوت – اداریہ

MUST READ

کئے لــڈینگ ءُ بلوچستـــــان ءَ آرگ بنــت ؟

کئے لــڈینگ ءُ بلوچستـــــان ءَ آرگ بنــت ؟

بلــوچ هُـــژّار

بلــوچ هُـــژّار

بلــوچ ءِ راجی سرمایہ ءُ مالانی پُل ءُ پانـچ

بلــوچ ءِ راجی سرمایہ ءُ مالانی پُل ءُ پانـچ

ایران: نوجوان ریسلر نوید افکاری کی سزائے موت پر عمل درامد

ایران: نوجوان ریسلر نوید افکاری کی سزائے موت پر عمل درامد

یو این کو دنیا بھر میں کہیں بھی ناانصافی کے خلاف خاموش نہیں ہونا چاہیے۔ حیربیار مری

یو این کو دنیا بھر میں کہیں بھی ناانصافی کے خلاف خاموش نہیں ہونا چاہیے۔ حیربیار مری

مروچی زرینہ مری ءُ مراد مریءَ پرین 3138 روچ انت کہ بیگواہ انت

مروچی زرینہ مری ءُ مراد مریءَ پرین 3138 روچ انت کہ بیگواہ انت

بلوچستان ءِ پُلیں شهیدان ءَ هزاراں سلام

بلوچستان ءِ پُلیں شهیدان ءَ هزاراں سلام

شکست ایران بعنوان یک واحد سیاسی – جغرافیایی

شکست ایران بعنوان یک واحد سیاسی – جغرافیایی

آج تک ٹی ويءِ گپ ترانے گون بلوچ قوم دوست رھنما واجہ حیربیار مريءً

آج تک ٹی ويءِ گپ ترانے گون بلوچ قوم دوست رھنما واجہ حیربیار مريءً

▪قتل عام مردان روستای کلابید ( قلعه بید) بوسیله قشون رژیم آخوندی

▪قتل عام مردان روستای کلابید ( قلعه بید) بوسیله قشون رژیم آخوندی

پاکستان وایران کا بلوچ قومی جہد کے خلاف ہمیشہ سے ایک قریبی تعاون رہا ہے:حیربیارمری

پاکستان وایران کا بلوچ قومی جہد کے خلاف ہمیشہ سے ایک قریبی تعاون رہا ہے:حیربیارمری

نواب اکبرخانِءِ سالروچءِ درگتءَ تران

نواب اکبرخانِءِ سالروچءِ درگتءَ تران

کیچ مکران دشتءَ پاکستانی فوجی آپریشن – ریڈیو حال

کیچ مکران دشتءَ پاکستانی فوجی آپریشن – ریڈیو حال

امپراتوریِ شیعیِ عجم بازندهٔ جنگ با اعراب

امپراتوریِ شیعیِ عجم بازندهٔ جنگ با اعراب

اعلامیه سازمان جیش العدل

اعلامیه سازمان جیش العدل

گروہی سوچ اور منتشر بلوچ قوت – اداریہ

2020-03-26 11:57:10
Share on

Thursday, May 07, 2015

کراچی یونیورسٹی میں بلوچستان کے بابت ایک سیمینار منعقد ہوا جس میں ماما قدیر بلوچ اور فرزانہ مجید سمیت محمد علی تالپور کو بھی مدعو کیا گیا تھا ، یہ سیمینار اس لیئے ایک خاص اہمیت کا حامل تھا کہ اس سے پہلے لاہور کے LUMS یونیورسٹی میں اسی طرز کے سیمینار کو پاکستانی خفیہ ادارے آئ ایس آئ کے دھمکیوں کے بعد ملتوی کردیا گیا تھا اور کراچی میں T2F کے پلیٹ فارم سے انسانی حقوق کی ایک متحرک کارکن سبین محمود نے بلوچستان پر سیمینار منعقد کیا تو اسکے پاداش میں آئ ایس آئی نے انہیں ابدی نیند سلادیا اور کراچی یونیورسٹی میں منعقد اس سیمینار سے پہلے خوف کی فضاء قائم رکھنے کیلئے اسی یونیورسٹی کے ایک روشن فکر پروفیسر کو آئ ایس آئی اہلکاروں نے فائرنگ کرکے ہلاک کردیا تھا ، سیمینار کے دن بھی یونیورسٹی ایڈمن نے اس سیمینار کو روکنے کی ہر ممکن کوشش کی اور مذکورہ دن کراچی یونیورسٹی کے گیٹ پر فورسز بِٹھا کر غیر متعلقہ اشخاص کے اندر آنے پر پابندی لگادی گئ تھی بہرحال کسی طور یہ سیمینار کراچی یونیورسٹی کے احاطے میں منعقد کی گئ لیکن اسی سیمینار میں آئ ایس آئ کے بنائے گئے ڈیتھ اسکواڈ کے بدنام زمانہ کارندے ذکریا محمد حسنی عرف ذکو خازگی بھی دیکھا گیا ، حیرت کی بات یہ ہے کہ جب غیر متعلقہ اشخاص کا آنا یونیورسٹی میں منع تھا پھر آئ ایس آئ کا یہ پیشہ ور قاتل کیسے اس سیمینار میں داخل ہوگیا۔

ذکریا محمد حسنی خضدار میں پاکستانی ڈیتھ اسکواڈ کے ایک کارندے ہیں اور کئ بلوچ سیاسی کارکنوں کے قتل و اغواء میں ملوث ہے ، اب اس بات کا قوی امکان ہے کہ اسکو یوں کھلم کھلا سیمیناروں میں بھیج کر پاکستانی خفیہ ادارے ماما قدیر بلوچ اور فرزانہ مجید بلوچ سمیت دوسرے بلوچستان کے ہمدرد انسانی حقوق کے کارکنوں کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں ، ابھی سے ہی اس بات کا شبہہ ظاھر کیا جارہا ہے کہ سبین محمود کا قاتل بھی یہی شخص ہے ۔

ان عوامل سے کچھ سوال اٹھتے ہیں کہ آج بلوچ قوت آخر کہاں اور کیسے معدوم و منتشر ہے کہ ایسے معمولی کرایے کے قاتل دن دھاڑے ماما قدیر و فرزانہ مجید کو دھمکانے سیمیناروں میں گھستے ہیں ، حقیقت یہ ہے کہ گروہی سوچ نے اب ہمارے مشترکہ مسئلوں کو بانٹ دیا ہے ، اگر کوئی ماما قدیر کو آکر دھمکی دیتا ہے تو یہ ماما قدیر کا مسئلہ ہے بی ایس او کا مسئلہ نہیں کیونکہ بی ایس او کا اب مسئلہ یہ ہے کہ جتنے سیمیناروں میں ماما قدیر شرکت کرتا ہے انہیں اس سے زیادہ سیمیناروں میں شرکت کرنا ہے ، ہر ایک نے اپنے لیئے گروہ تخلیق کردیئے ہیں حتیٰ کے دو آدمیوں پر مشتمل جماعتوں کے بھی اپنے لابی ہیں ، اور ہر ایک اپنے گروہ و لابی کو مضبوط کرنے کے درپے ہے جنهیں باقی ماندہ مشترکہ بلوچ مسئلوں سے سروکار نہیں ۔

حتیٰ کے اب جلسے جلوس بھی دشمن کے خلاف نہیں بلکہ ایک دوسرے کو اپنی طاقت دِکھانے کیلئے ہوتے ہیں ، مثال کے طور پر حال هی میں هونے والے جلسوں دیکھا جاسکتا هے هم دشمن کو آنکھیں دِکھانے کے بجائے اپنے آزادی پسند دوستوں کو نیچا دِکھانے کی کوشش کرتے ہیں ، یہی وہ مقام ہے جہاں سے ہماری قوت منتشر ہوکر خاک ہورہی ہے اور دشمن کے حوصلے اس سے بلند ہورہے ہیں ، یہی وجوہات ہیں کہ مقصد و منزل ایک ہونے کے باوجود ہماری گروہی سوچ ہمارے مسائل کو مختلف کڑہی ہے اور ہم ایک دوسرے کو اس مقابلہ آرائ کے دوڑ میں دوست و ہمرکاب کے بجائے حریف سمجھ رہے ہیں ۔ دوسری جانب می خاص طور پر سوشل میڈیا پر حمایتیوں کے ایک دوسرے پر ناشئستگی کلمات کے بیانات قابلِ دید ہیں
جب تک ہم اپنے اس پارٹی بازی ، لابی بازی ، گروہی سوچ سے چھٹکارہ حاصل کرکے اپنا مطمع نظر ایک مشترکہ قومی سوچ نہیں بنائیں گے اس وقت تک ہمارے تحریک کے ستون یونیہی کمزور هوتے جائیں گے اور دشمن کے حوصلے اتنے بلند ہونگے کہ وہ ہمارے صفوں میں گھس کر ہمیں چیلنج کرتا رہے گا ۔

Share on
Previous article

بلـوچ ءِ هـوں هم سُهـر اِنت

NEXT article

فری بلوچستان موومنٹ کی طرف سے 28 مئی کو پاکستان کے ایٹمی دھماکوں اور چین اور پنجابی کی بلوچستان میں آبادکاری کے خلاف مغربی ممالک میں احتجاج کیا جائے گا

LEAVE A REPLY