گلوکار اُستاد منہاج مختار کے گھر پر حملہ کی مذمت کرتے ہیں۔ بی این ایم

MUST READ

بلوچستان سمینار اسٹوکھولم سویڈنءَ بلوچ قوم دوست رھنما حیر بیار مریءِ تران

بلوچستان سمینار اسٹوکھولم سویڈنءَ بلوچ قوم دوست رھنما حیر بیار مریءِ تران

جنگریز مری وگزین مری،فکری کاروان میں شامل نہیں تھے:حیربیار مری

جنگریز مری وگزین مری،فکری کاروان میں شامل نہیں تھے:حیربیار مری

بلــوچ هُـــژّار

بلــوچ هُـــژّار

جیش العدل کے کمانڈر ایوب بلوچ سے هماری گفتگو کا خلاصہ

جیش العدل کے کمانڈر ایوب بلوچ سے هماری گفتگو کا خلاصہ

بلوچستان ءِ راجی جنزءِ دیمپان چے اَنت؟

بلوچستان ءِ راجی جنزءِ دیمپان چے اَنت؟

جئے سندھ متحدہ محاذ کے کارکن شهید سرویچ پیرزادہ کے والد لطف علی سے گفتگو

جئے سندھ متحدہ محاذ کے کارکن شهید سرویچ پیرزادہ کے والد لطف علی سے گفتگو

مغربی بلوچستان میں بلوچ مسلح دستوں کے ھاتھوں ایرانی ڈرون طیارہ نشانہ بنایا گیا۔ دوسری جانب ایرانی فورسسز مشرقی بلوچستان میں داخل ھونے کے لئے پاکستانی حکام سے رابطے میں ھیں۔

مغربی بلوچستان میں بلوچ مسلح دستوں کے ھاتھوں ایرانی ڈرون طیارہ نشانہ بنایا گیا۔ دوسری جانب ایرانی فورسسز مشرقی بلوچستان میں داخل ھونے کے لئے پاکستانی حکام سے رابطے میں ھیں۔

بی این ایم کی جانب سے کوئٹہ پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ

بی این ایم کی جانب سے کوئٹہ پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ

نواب اکبرخانِءِ سالروچءِ درگتءَ تران

نواب اکبرخانِءِ سالروچءِ درگتءَ تران

میان اُستمانی سیاست ءُ بلوچ راجی جنز ندکار: سعید بلوچ

میان اُستمانی سیاست ءُ بلوچ راجی جنز ندکار: سعید بلوچ

مـاتی زبان ءِ ميـاں استمانـی روچ

مـاتی زبان ءِ ميـاں استمانـی روچ

اقراء ریزیڈنشل اسکول اینڈ کالج مری میں تشدد شدہ بلوچ طالبعلم سے گفتگو

اقراء ریزیڈنشل اسکول اینڈ کالج مری میں تشدد شدہ بلوچ طالبعلم سے گفتگو

بیست ءُ یک فروری ماتی زبانانی میان اُستمانی روچءِ بابتءَ گپ وترانے گون ملاّ مراد ءَ

بیست ءُ یک فروری ماتی زبانانی میان اُستمانی روچءِ بابتءَ گپ وترانے گون ملاّ مراد ءَ

بلوچستــــان گلزميـــن اجـــدادی ماســـت

بلوچستــــان گلزميـــن اجـــدادی ماســـت

ایران پر اقتصادی و فوجی پابندیاں اٹھانا امن کیلئے نہایت خطر ناک عمل ہے ۔ حیر بیار مری

ایران پر اقتصادی و فوجی پابندیاں اٹھانا امن کیلئے نہایت خطر ناک عمل ہے ۔ حیر بیار مری

گلوکار اُستاد منہاج مختار کے گھر پر حملہ کی مذمت کرتے ہیں۔ بی این ایم

2020-03-25 18:16:18
Share on

کوئٹہ / بلوچ نیشنل موومنٹ کے مرکزی ترجمان نے کہا کہ بلوچستان میں فوجی آپریشنوں میں نہایت تیزی لائی گئی ہے۔ ڈیڑھ سے زائد دہائیوں سے جاری آپریشن میں ہر نئی حکومت کے ساتھ شدت لائی گئی ہے۔ اس صدی کے شروع میں پاکستان کی فوجی حکومت نے بلوچستان میں آپریشن کا آغاز کیا تو نام نہاد جمہوری اور سیاسی جماعتوں نے اپوزیشن میں رہ کر مظالم کے خلاف جذباتی تقاریر کرکے بلوچ قوم کی ہمدردی حاصل کرنے کی کوشش کی، مگر اقتدار میں آکر جمہوری قوتوں کے مظالم نے فوج کو پیچھے چھوڑ دیا۔ آصف علی زرداری نے معافی کا لفظ استعمال کرکے مسخ شدہ لاشوں کی تعداد میں اضافہ کیا۔ دوسری طرف معافی بلوچ قوم کی تذلیل تھی۔ کیونکہ ظلم بلوچ قوم پر ہورہا ہے، اب بلوچ پر منحصر ہے کہ وہ قابض صوبائی ووفاقی حکمرانوں کو معاف کرے یا نہیں۔ نواز شریف کا انداز بھی مختلف نہ رہا۔ عالمی اداروں میں جمہوریت اور اظہار رائے کی آزادی کے دعویداروں نے اظہار رائے پر ایسی قدغن لگائے کہ تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔ سرکاری اسکول اور کالجوں کو فوجی کیمپوں میں تبدیل کیا کیا گیا اور نجی اسکولوں پر ریاستی ایماء اسلامی شدت پسندوں کے ذریعے حملے کروائے گئے یا اساتذہ کو اغوا کرکے اسکولوں کو تالا لگایا گیا۔
ترجمان نے کہا کہ بلوچی میں شاعری اور گانا کے ذریعے اظہار پر بھی پابندی لگائی گئی ہے۔ آج تمپ کے علاقے کونشقلات میں بلوچی زبان کے معروف موسیقار اور گلوکار اُستاد منہاج مختار کے گھر پر دوسری دفعہ حملہ کرکے جلایا گیا۔ اس غیر جمہوری اور غیر انسانی فعل کی بھر پور مذمت کرتے ہیں۔ زبان و ثقافت کو زندہ رکھنے میں ایک اہم کردار گائیکی ہے۔ بلوچ ثقافت کو ختم کرنے کیلئے بلوچی زبان کے فنکاروں پر حملے کئے جا رہے ہیں۔ یہ پہلا حملہ نہیں ہے۔ اس سے پہلے مستونگ سے فقیر محمد عاجز اور بسیمہ سے علی جان ثاقب جیسے بلوچی اور براہوئی زبان کے گلوکاروں کو اغوا کرکے قتل کیا جا چکا ہے۔
ترجمان نے کہا کہ بلوچستان میں قابض ریاستی فورسز کی جانب سے بلوچوں کا اغواء، قتل اور گھروں کو جلانا بلوچستان کے طول و عرض میں جاری ہے۔ گزشتہ دس دنوں میں مند ، تمپ ، سامی، شاپک، بالگتر اور گچک کے مختلف علاقوں میں گن شپ ہیلی کاپٹروں کی بمباری اور زمینی فوجی کارروائیوں سے کئی بلوچ فرزند ہلاک یا اغوا کئے جاچکے ہیں۔ بمباری سے بے شمار مال مویشی ہلاک ہوچکے ہیں۔ گچک کے علاقے سولیر میں ہیلی کاپٹروں سے کمانڈوز اُتار کر گھروں کو حصار میں لیکر تمام مرد حضرات کو گرفتار کرکے لاپتہ کر دیا گیا ہے اور تمام گھر جلائے ہیں۔ مزکورہ لوگ کسان اور مزدور پیشہ بلوچ ہیں۔

Share on
Previous article

مسعود بارزانی کی طرف سے کردستان کی آزادی کی ریفرنڈم پر سمجھوتہ نہ کرنا خوش آئند ہے: حیربیار مری

NEXT article

زمیں کا الَم – نوشین قمبرانی

LEAVE A REPLY