گلوکار اُستاد منہاج مختار کے گھر پر حملہ کی مذمت کرتے ہیں۔ بی این ایم

MUST READ

بلوچستانءَ انسانی حقانی لگتمالی ءُ زوراکیانی آماچ بوتگین بلوچانی فریات – اولُی بهر

بلوچستانءَ انسانی حقانی لگتمالی ءُ زوراکیانی آماچ بوتگین بلوچانی فریات – اولُی بهر

نامه محمد صابر ملک رئیسی پس از برخورد های تبعیض آمیز دوباره

نامه محمد صابر ملک رئیسی پس از برخورد های تبعیض آمیز دوباره

حمید صمصام نمونه بارز یک فاشیست ملی ـ مذهبی

حمید صمصام نمونه بارز یک فاشیست ملی ـ مذهبی

سوءِ استفاده اشغالگران از فاجعه زلزله در کوردستان

سوءِ استفاده اشغالگران از فاجعه زلزله در کوردستان

ماتی زبان – کارینا جهانی

ماتی زبان – کارینا جهانی

جالک ءُ کلَّگاں ڈیہ ءِ پَھرءُ شان اَنت

جالک ءُ کلَّگاں ڈیہ ءِ پَھرءُ شان اَنت

بلوچی زبان بلوچانی میراث انت

بلوچی زبان بلوچانی میراث انت

برطانیہ خان قلات کے ساتھ اپنے76 18 کی توسیع شدہ معاہدے کی پابندی کریں ۔ حیر بیار مری

برطانیہ خان قلات کے ساتھ اپنے76 18 کی توسیع شدہ معاہدے کی پابندی کریں ۔ حیر بیار مری

بلوچستانءَ انسانی حقانی لگتمالی ءُ زوراکیانی آماچ بوتگین بلوچانی فریات – دُومی بهر

بلوچستانءَ انسانی حقانی لگتمالی ءُ زوراکیانی آماچ بوتگین بلوچانی فریات – دُومی بهر

جنگ عــرب و عجم

جنگ عــرب و عجم

پاکستانی افواج صرف اور صرف نہتے خواتین اور بچوں کو ہی اغوا کر سکتے ہیں ان کی قابلیت یہی تک محدود ہے۔ نواب براہمدغ بگٹی

پاکستانی افواج صرف اور صرف نہتے خواتین اور بچوں کو ہی اغوا کر سکتے ہیں ان کی قابلیت یہی تک محدود ہے۔ نواب براہمدغ بگٹی

دس 10 ہزار سے زاہد بگٹی پناہ گزین افغانستان میں کسمپرسی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ نواب براہمدغ بگٹی

دس 10 ہزار سے زاہد بگٹی پناہ گزین افغانستان میں کسمپرسی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ نواب براہمدغ بگٹی

پشتون قوم دوست روڑ ،نالی کی سیاست سے نکل کر پاکستانی قبضہ گریت کے خلاف آواز بلند کریں : حیربیار مری

پشتون قوم دوست روڑ ،نالی کی سیاست سے نکل کر پاکستانی قبضہ گریت کے خلاف آواز بلند کریں : حیربیار مری

گلزمين ءِ راجی کماش واجه خيربخش مری نميران بوت

گلزمين ءِ راجی کماش واجه خيربخش مری نميران بوت

هجوم وحشيانه قشـون پارس و اشغال بلوچستان در سـال ۱۳۰۷ هجـری شمسـی

هجوم وحشيانه قشـون پارس و اشغال بلوچستان در سـال ۱۳۰۷ هجـری شمسـی

گلوکار اُستاد منہاج مختار کے گھر پر حملہ کی مذمت کرتے ہیں۔ بی این ایم

2020-03-26 12:03:13
Share on

کوئٹہ / بلوچ نیشنل موومنٹ کے مرکزی ترجمان نے کہا کہ بلوچستان میں فوجی آپریشنوں میں نہایت تیزی لائی گئی ہے۔ ڈیڑھ سے زائد دہائیوں سے جاری آپریشن میں ہر نئی حکومت کے ساتھ شدت لائی گئی ہے۔ اس صدی کے شروع میں پاکستان کی فوجی حکومت نے بلوچستان میں آپریشن کا آغاز کیا تو نام نہاد جمہوری اور سیاسی جماعتوں نے اپوزیشن میں رہ کر مظالم کے خلاف جذباتی تقاریر کرکے بلوچ قوم کی ہمدردی حاصل کرنے کی کوشش کی، مگر اقتدار میں آکر جمہوری قوتوں کے مظالم نے فوج کو پیچھے چھوڑ دیا۔ آصف علی زرداری نے معافی کا لفظ استعمال کرکے مسخ شدہ لاشوں کی تعداد میں اضافہ کیا۔ دوسری طرف معافی بلوچ قوم کی تذلیل تھی۔ کیونکہ ظلم بلوچ قوم پر ہورہا ہے، اب بلوچ پر منحصر ہے کہ وہ قابض صوبائی ووفاقی حکمرانوں کو معاف کرے یا نہیں۔ نواز شریف کا انداز بھی مختلف نہ رہا۔ عالمی اداروں میں جمہوریت اور اظہار رائے کی آزادی کے دعویداروں نے اظہار رائے پر ایسی قدغن لگائے کہ تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔ سرکاری اسکول اور کالجوں کو فوجی کیمپوں میں تبدیل کیا کیا گیا اور نجی اسکولوں پر ریاستی ایماء اسلامی شدت پسندوں کے ذریعے حملے کروائے گئے یا اساتذہ کو اغوا کرکے اسکولوں کو تالا لگایا گیا۔
ترجمان نے کہا کہ بلوچی میں شاعری اور گانا کے ذریعے اظہار پر بھی پابندی لگائی گئی ہے۔ آج تمپ کے علاقے کونشقلات میں بلوچی زبان کے معروف موسیقار اور گلوکار اُستاد منہاج مختار کے گھر پر دوسری دفعہ حملہ کرکے جلایا گیا۔ اس غیر جمہوری اور غیر انسانی فعل کی بھر پور مذمت کرتے ہیں۔ زبان و ثقافت کو زندہ رکھنے میں ایک اہم کردار گائیکی ہے۔ بلوچ ثقافت کو ختم کرنے کیلئے بلوچی زبان کے فنکاروں پر حملے کئے جا رہے ہیں۔ یہ پہلا حملہ نہیں ہے۔ اس سے پہلے مستونگ سے فقیر محمد عاجز اور بسیمہ سے علی جان ثاقب جیسے بلوچی اور براہوئی زبان کے گلوکاروں کو اغوا کرکے قتل کیا جا چکا ہے۔
ترجمان نے کہا کہ بلوچستان میں قابض ریاستی فورسز کی جانب سے بلوچوں کا اغواء، قتل اور گھروں کو جلانا بلوچستان کے طول و عرض میں جاری ہے۔ گزشتہ دس دنوں میں مند ، تمپ ، سامی، شاپک، بالگتر اور گچک کے مختلف علاقوں میں گن شپ ہیلی کاپٹروں کی بمباری اور زمینی فوجی کارروائیوں سے کئی بلوچ فرزند ہلاک یا اغوا کئے جاچکے ہیں۔ بمباری سے بے شمار مال مویشی ہلاک ہوچکے ہیں۔ گچک کے علاقے سولیر میں ہیلی کاپٹروں سے کمانڈوز اُتار کر گھروں کو حصار میں لیکر تمام مرد حضرات کو گرفتار کرکے لاپتہ کر دیا گیا ہے اور تمام گھر جلائے ہیں۔ مزکورہ لوگ کسان اور مزدور پیشہ بلوچ ہیں۔

Share on
Previous article

گرامی باد خاطرهٔ قربانیان مذاکره با حکام مرکزی ایران

NEXT article

شهید فدا احمد پارلیمانی سیاست کنوکانی شازش هانی آماچ بوت – گپ و ترانے گون بلوچ سیاسی جهدکاران شهید فدا احمدءِ بابتءَ

LEAVE A REPLY