ہم غلام ہیں،مسخ شدہ لاشیں ملنے کے ساتھ بلوچ عورتوں پر تیزاب پھینکنے کا سلسلہ پاکستانی فوج ایجنسیوں کی بوکھلاہٹ کا ثبوت ہیں بلوچ قوم دوست رہنما حیربیار مری

MUST READ

اول ما بلوچیں، پیش چا ایشیءَ مسلمان ببئیں – حافظ عبدالغفار نقشبندی

اول ما بلوچیں، پیش چا ایشیءَ مسلمان ببئیں – حافظ عبدالغفار نقشبندی

استقلال کوردستان مبارک باد

استقلال کوردستان مبارک باد

بلوچ دژمنیں سپاہ ڈیہ ءِ جنیں آدماں بندی کنگ اِنت

بلوچ دژمنیں سپاہ ڈیہ ءِ جنیں آدماں بندی کنگ اِنت

به گروگان گرفتن زنان و کودکان بلوچ اوج ذلت وحقارت اشغالگران

به گروگان گرفتن زنان و کودکان بلوچ اوج ذلت وحقارت اشغالگران

راجدوستیں بلوچاں تپاک بیگی انت

راجدوستیں بلوچاں تپاک بیگی انت

ںوکین حال

ںوکین حال

برطانیہ خان قلات کے ساتھ اپنے76 18 کی توسیع شدہ معاہدے کی پابندی کریں ۔ حیر بیار مری

برطانیہ خان قلات کے ساتھ اپنے76 18 کی توسیع شدہ معاہدے کی پابندی کریں ۔ حیر بیار مری

پِگــری گُلامـــی – دومی بهر

پِگــری گُلامـــی – دومی بهر

نژاد پرستی در ایران

نژاد پرستی در ایران

توهین، فحاشی و پرخاشگری بخشی از فرهنگ و زبان پارسی است

توهین، فحاشی و پرخاشگری بخشی از فرهنگ و زبان پارسی است

میان اُستمانی سیاست ءُ بلوچ راجی جنز ندکار: سعید بلوچ

میان اُستمانی سیاست ءُ بلوچ راجی جنز ندکار: سعید بلوچ

ڈاکٹر منان بلوچ 5 ساتھیوں سمیت شہید

ڈاکٹر منان بلوچ 5 ساتھیوں سمیت شہید

کوئٹہ میں اتنی بڑی تعداد میں وکلاء اور نہتے شہریوں کا قتل عام انتہائی افسوسناک هے – ڈاکٹر اللہ نذر

کوئٹہ میں اتنی بڑی تعداد میں وکلاء اور نہتے شہریوں کا قتل عام انتہائی افسوسناک هے – ڈاکٹر اللہ نذر

بلوچ راجءَ پا آجوئیءَ گون دُگنیاءِ دموکرٹیکین ملکان نزیکی لازم انت – نمیرانین واجہ عبدالصمد امیری

بلوچ راجءَ پا آجوئیءَ گون دُگنیاءِ دموکرٹیکین ملکان نزیکی لازم انت – نمیرانین واجہ عبدالصمد امیری

بلوچستانءِ نوکترین – ریڈیو حال

بلوچستانءِ نوکترین – ریڈیو حال

ہم غلام ہیں،مسخ شدہ لاشیں ملنے کے ساتھ بلوچ عورتوں پر تیزاب پھینکنے کا سلسلہ پاکستانی فوج ایجنسیوں کی بوکھلاہٹ کا ثبوت ہیں بلوچ قوم دوست رہنما حیربیار مری

2020-03-26 15:25:44
Share on

Thursday, July 24, 2014

لندن – بلوچ قوم دوست رہنما حیربیار مری نے اپنے بیان میں پاکستان کے فوج اورآئی ایس آئی کیسے رول پر چلنے والے مذہبی انتہاپسندوں کی جانب سے بلوچ خواتین پر تیزاب پھینکنے کو غیر انسانی اور غیر اخلاقی فعل قرار دے کر اسکی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ایک سوچے سمجھے منصوبہ کے تحت بلوچستا ن میں انتہا پسندی کو فروغ دے رہا ہے تاکہ بلوچ قومی آزادی کی تحریک کو کاوٗنٹر کر سکے جیسے جیسے بلوچ قومی آزادی کی تحریک زور پکڑتا جارہا ہے بلوچستان میں پاکستانی ایجسیوں اور آرمی کے پالے ہوئے مذہبی انتہاپسندوں کی کاروائیوں میں بھی اضافہ ہورہا ہے اس میں خصوصی طور پر بلوچ خواتین کو ٹارگٹ بنایا جار ہا ہے کیونکہ اس وقت بلوچ خواتین بلوچ قومی آزادی کے لیے اپنے بھائیوں کے شانہ بشانہ ہی جدوجہد کر رہے ہیں حال ہی میں مستونگ اور کوئٹہ میں بلوچ خواتین پر تیزاب پھینکیکا واقعہ پاکستانی ایجسیوں اور فوج کے بزدلانہ حرکتوں کو واضع کرتا ہیانہوں نے کہا بلوچ معاشرے میں خواتین کو ایک معزز مقام حاصل ہے لیکن آج قابض پاکستان ہمارے خواتین پر تیزاب پھینک کر ہمیں یہی احساس دلا رہا ہے کہ ہم غلام ہیں اور ہمارے قسمت کا فیصلہ صرف قابض کر سکتا ہے ہماری شناخت مٹانے کے ساتھ ساتھ ہمارے ننگ و ناموس کے چہرے بگاڑنے کی بھی کوشش کر رہے ہیں انہوں نے کہا کہ مسخ شدہ لاشیں ملنے کے ساتھ بلوچ عورتوں پر تیزاب پھینکنے کا سلسلہ پاکستانی فوج ایجنسیوں کی بوکھلاہٹ کا ثبوت ہیں پاکستانی فوج بلوچ قوم کی خاص کر بلوچ نوجوانوں اور بہنوں کی جدوجہد کی وجہ سے حواس باختہ ہے جس کا مثال کچھ مہینے پہلے پنجگور میں بلوچ خواتین کو تعلیم کے زیور سے دور کرنے کے لیے پاکستان نے اپنے مذہبی اور ڈیتھ سکواڈز کے زریعے لڑکیوں کی تعلیمی بندش کا سلسلہ شروع کیا تین مہینے سے پنجگور میں لڑکیوں کے تمام تعلیمی ادارے بند ہیں حیربیار مری نے کہا پاکستانی ایجنسیاں اور فوج پنجاب کو آگے لے جانے کے لیے بلوچستان ور پشتونخوا میں اپنے مذہبی انتہاپسندوں کیزریعے تعلیم کو تباہ کر رہا ہے اور خواتین جو کہ کسی معاشرے کی ترقی کے لیے اہم کردار ادا کرتے ہیں انہیں گھروں تک محدود کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور اسی طرح دنیا کو انہی مذہبی انتہاپسندوں کے نام پر بے وقوف بنا کر اورپیسے بٹورکر پنجاب کی ترقی خوشخالی اور تعلیم کے لیے استعمال کر رہا ہے پنجاب کی یونیورسٹیوں میں لڑکے اور لڑکیا ں ایک ساتھ تعلیم حاصل کرتے ہیں ان کے لیے سب ٹھیک ہے لیکن بلوچ اور پشتون کے خواتینسودا سلف کے لیے باہر نکلتے ہیں ان پر تیزاب پھینکا جاتا ہے سکولوں کو بموں سے اڑایا جاتا ہے تاکہ وہمقبوضہ بلوچستان اور پشتونخوا کو اپنے مذہبی انتہاپسندوں کے زریعے تعیلم سے دور رکھ کر ہمیشہ کے لیے غلام بناسکیں اوران کے نام پر اپنے آپ کو ترقی دے سکیں حیربیار نے کہا کہ بلوچ معاشرہ جو ہزاروں سال سے اعتدال پسند رہا ہے اسے قابض پاکستانی ریاست اسے انتہا پسندی کی طرف لے جار ہا ہے جو کل یہ دوسرا وزیرستان بھی بن سکتا ہے وزیرستان وغیرہ میں بھی پاکستان نے پہلے لڑکیوں کی تعلیم پر پابندی لگایا اور خواتین کے چہروں پر تیزاب پھینکے اگر اس وقت انہیں کنڑرول کیا جاتا تو آج دنیا کے لیے وہ درد سر نہیں بنتے بلوچستان میں ابھی یہ نیا نیا شروع ہوا ہے اس لیے بین الاقوامی دنیا کو پاکستان اوار اس کے ڈیتھ سکواڈ مذہبی جنونی لوگوں کے عمل اور حرکت کا نوٹس لینے چاہیے تاکہ پاکستان کی مذہبی جنونیت کو پھیلنے سے وقت پر روکا جا سکے دنیا کو اس گمبیرمسلئے کی ایمیت کوسمجنا چائیے کیونکہ پاکستان کی سرپرستی میں چلنے والی مذہبی جنونیت پورے خطے کے لے تباہ کن ہوگی

Share on
Previous article

بلوچستان اِشغالی در چنگال خونینِ غارتگران

NEXT article

کراچی پر یس کلب کے سامنے بلوچ ہیومن رائٹس آرگنائزیشن کا احتجاجی مظاہرہ

LEAVE A REPLY