IVBMP -لاپتہ بلوچ اسیران کو جعلی مقابلوں میں شہید کرکے شدت پسند قرار دینا تشوشناک امر ہے

MUST READ

اساتذہ و سرکاری ملازمین مردم شماری میں حصہ لینے سے گریز کریں،سخت حملے کریں گے، بی ایل ایف

اساتذہ و سرکاری ملازمین مردم شماری میں حصہ لینے سے گریز کریں،سخت حملے کریں گے، بی ایل ایف

بیست ءُ یک فروری ماتی زبانانی میان اُستمانی روچءِ بابتءَ گپ وترانے گون پروفیسرعبدالواحد بزدارءَ

بیست ءُ یک فروری ماتی زبانانی میان اُستمانی روچءِ بابتءَ گپ وترانے گون پروفیسرعبدالواحد بزدارءَ

جماعت اسلامی اور 20 اکتوبر1914 ؁ کی قومی کانفرنس – کردگار بلوچ

جماعت اسلامی اور 20 اکتوبر1914 ؁ کی قومی کانفرنس – کردگار بلوچ

شرکت مزدوران خارجی سپاه قدس در سرکوب مردم بپاخاسته

شرکت مزدوران خارجی سپاه قدس در سرکوب مردم بپاخاسته

گیبن کیچءَ 13 اپریلءَ 2015 پاکستانی فوجی آپریشنءِ حقیقت

گیبن کیچءَ 13 اپریلءَ 2015 پاکستانی فوجی آپریشنءِ حقیقت

بلوچستان میں ریفرینڈم نہیں چاہتے: حیر بیار مری

بلوچستان میں ریفرینڈم نہیں چاہتے: حیر بیار مری

کوردستان ءِ جنگ آزادی، دیم په دیمی گوں میان استمانی تروریسم ءُ اروپایی – امریکی سیاسی واکدارانی دوپوستی

کوردستان ءِ جنگ آزادی، دیم په دیمی گوں میان استمانی تروریسم ءُ اروپایی – امریکی سیاسی واکدارانی دوپوستی

دَرانڈیھیں بلوچانی انسانی اُگدَہ

دَرانڈیھیں بلوچانی انسانی اُگدَہ

راهی بجز دفاع از موجودیت ملی و آزادی بلوچستــان باقی نمانده است

راهی بجز دفاع از موجودیت ملی و آزادی بلوچستــان باقی نمانده است

فارغ التحصيـلان بلــوچ در خارج متشـــکل شويــد

فارغ التحصيـلان بلــوچ در خارج متشـــکل شويــد

پاکستانی خطرات کو روکنے کے لیے تمام متاثرہ اقوام و ممالک کو مشترکہ طور پر پاکستان کا مقابلہ کرنا ہوگا ۔ حیربیار مری

پاکستانی خطرات کو روکنے کے لیے تمام متاثرہ اقوام و ممالک کو مشترکہ طور پر پاکستان کا مقابلہ کرنا ہوگا ۔ حیربیار مری

جان مذاکره کنندگان در خطر است

جان مذاکره کنندگان در خطر است

بلوچستان ءِ پُلیں شهیدان ءَ هزاراں سلام

بلوچستان ءِ پُلیں شهیدان ءَ هزاراں سلام

پُرامن افغانستان کی راہ میں پاکستان بڑی رکاوٹ ہے : حیربیار

پُرامن افغانستان کی راہ میں پاکستان بڑی رکاوٹ ہے : حیربیار

زبانهای بلوچی، کوردی، تورکمنی، تورکی و عربی زنده هستند

زبانهای بلوچی، کوردی، تورکمنی، تورکی و عربی زنده هستند

IVBMP -لاپتہ بلوچ اسیران کو جعلی مقابلوں میں شہید کرکے شدت پسند قرار دینا تشوشناک امر ہے

2020-03-26 12:40:21
Share on

بلوچ لاپتہ افراد کی بازیابی کیلئے عالمی سطح پر کوشش کرنے والی تنظیم  انٹرنیشنل وائس فار بلوچ میسنگ پرسن نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ گذشتہ دنوں پاکستانی خفیہ اداروں کی جانب سے گیبن آپریشن کے دوران ماسٹر اصغر بلوچ ولد داد محمد اور یحیٰ ولد فضل حیدر کی طرح مزید بلوچ اسیران کی لاشیں گرانے کا خدشہ ہے یاد رہے اس سے پہلے پچھلے ہفتے بلوچستان کے علاقے گوربرات میں بھی چھ لاپتہ بلوچوں کی لاشیں پھینک کر اسے مقابلہ ظاھر کیا گیا تھا ۔ گذشتہ دن گیبن کیچ میں دوران آپریشن پاکستانی فورسز نے 13 سے زائد نامعلوم لاشیں پھینک کر انہیں میڈیا میں بلوچ سرمچار ظاھر کرکے دعویٰ کیا تھا کہ انہیں دورانِ مقابلہ شہید کیا گیا بعد ازاں ان لاشوں میں سے ایک کی شناخت 2 سال سے لاپتہ یحیٰ ولد فضل حیدر کے نام سے ہوئ تھی اور بعد میں ایک اور بلوچ اسیر فرزند کی شناخت ماسٹر اصغر بلوچ ولد داد محمد کے نام سے هوئی ہے ماسٹر اصغر بلوچ ولد داد محمد یکم جنوری 2014 کو تربت سے کلاؤ آتے ہوئے گوکدان میں ایف سی کے ہاتھوں اغوا ہوا اس بات کی گواہی وه تمام لوگ دیتے هیں جو اسی گاڑی میں ماسٹر اصغر بلوچ کیساتھ سفر کررهے تهے. ماسٹر اصغر بلوچ ولد داد محمد تب سے پاکستانی خفیہ اداروں کی تحویل میں تھا ۔ اس کے رہائی کیلئے انکا اہلخانہ ایک بار تربت میں احتجاج کرچکی ہے۔
اس سے پہلے ایک لاش کی شناخت ناصر آباد کیچ کے رهائشی یحیٰ بلوچ ولد فضل حیدر کے نام سے هوئی تھی جسے 22 جنوری 2014 کو گوادر زیرو پوائنٹ کے چیک پوسٹ سےچشم دید گواهوں کے سامنے ایف سی نے اغواه کیا تھا، جسے آج جعلی آپریشن کے نام پر گیبن میں قتل کرکے انکی لاش سول ہسپتال تربت پہنچا دی گئی تھی ، یحیٰ بلوچ ولد فضل حیدر کا نام  انٹرنیشنل وائس فار بلوچ میسنگ پرسن کے مسنگ پرسنز کے لسٹ میں موجود ہے اور اسکی گمشدگی کی رپورٹ اقوام متحده میں درج کی گئی هے
بلوچستان میں نام نہاد قوم پرستوں کی حکومت آنے کے بلوچ اسیران کو رہا کرنے کے بجائے مزید شدت کے ساتھ اغواء کرنا شروع کردیا گیا، اب ایک نئی حکمت عملی کے تحت انکو شہید کرکے انکی لاشیں گرائی جارهی هیں۔ کل کے گیبن کیچ کے آپریشن سے یہ تاثر ملتا ہے کہ آنے والے دنوں میں پاکستانی خفیہ ادارے اپنے جرائم کو چهپانے کے لئے مزیز لاشیں گرائینگے. یحیٰ ولد فضل حیدر کی بازیابی کے بارے میں اقوام متحده کی ورکنگ گروپ مسنگ پرسنز نے پاکستانی حکام کو نوٹس بهیج دی مگر پاکستان نے اسکی گمشدگی کے بارے میں لاتعلقی کا اظہار کیا تھا۔ اسی طرح کلاؤ کے رهائشی ماسٹر اصغر بلوچ ولد داد محمد کا نام بهی  انٹرنیشنل وائس فار بلوچ میسنگ پرسن کے مسنگ پرسنز کے لسٹ میں درج هے۔
گیبن کیچ کے آپریشن کے دوران پھینکی گئ لاشوں میں سے مزید دو افراد کی شناخت ہوگئ ہے ، جن میں سے ایک کا نام دین محمد بگٹی اور دوسرے کا رسول جان بتایا جارہا ہے ، رسول جان تربت میں ایک پرائیوٹ سینٹر ڈیلٹا ٹیچنگ سینٹر میں بطور استاد خدمات سرانجام درے رہے تھے انہیں 7 جنوری 2014 کو تربت سے پاکستانی خفیہ اداروں نے اغواء کیا تھا اس سے پہلے دو لاشوں کی شناخت ہوچکی ہے ، یاد رہے گذشتہ دنوں گیبن میں ہونے والے آپریشن کے دوران پاکستانی فورسز نے پانچ لاشیں پھینک کر انہیں شدت پسند قرار دیا تھا بعد از شناخت معلوم ہوا تھا کہ فورسز نے لاپتہ بلوچوں کو شہید کرکے ان کی لاشیں وہاں پھینک دی تھی ، جن میں سے ابتک چار کی شناخت ہوچکی ہے اسی آپریشن کے دوران پاکستانی فورسز نے حیات بیوس ولد شھسوار جو چلنے پھرنے تک سے معذوری کی وجہ سے قاصر تھے کو انکے گھر میں گولی مار کر شھید کیا تھا ۔

Share on
Previous article

بيست و هفتم مارس روزی سياه در تاريــخ بلوچستــــان

NEXT article

لَدیگی سپاہ قدس ماں اسکاندیناوی ءَ

LEAVE A REPLY