
کیا بلوچ آپکے اس قتل عام اور بربربیت کو فراموش کرکے ایک محب وطن پاکستانی شھری بن سکے گیں۔؟
رحمان ملک کا پاکستانی ریاست آئی ایس آئی، پاکستانی سیاسی پاڑٹیوں کے سربراھوں، علماہ اور خفیہ اداروں کے اھکاروں کو بلوچستان میں
انسانی حقوق کی پائیمالی ، طالبعلموں، دانشوروں، صحافیوں ،سیاسی کارکنوں، کمسن بچوں کے اغواہ، تشّدد، حبس بیجا اور قتل کے منصوبہ
بندی میں اعتماد میں لیا گیا ھے۔ جس میں بلوچ پارلیمانی پاڑٹیاں بھی ملوث ھیں۔ جس کا ذکر کوئٹہ میں پی پی کے درّانی ایک ٹی وی پروگرام میں
کر چکے ھیں۔ دنیا کی وہ کونسی قانون ھے جس کے تحت کسی انسان کی آزادی کو سلب کرکے ماروائے عدالت، انھیں لاپتہ کرکے ٹاچرسیلوں
میں اذیت ناک سزا دیکر انھیں قتل کرکے ویرانوں میں پھینک دیاجائے۔ آگر بلوچ نے اپنے سرزمین کے مالک بنّےکا فیصلہ کرچکا ھے، اور جسکی سزا پاکستانی عدالتوں میں پھانسی کا پھندا ھے تو بلوچ نے اس غیرفطری قانون کا استقبال کرنے کی بھی تیاری کرلی ھے، مگر آپکے عدالت بھی آپکی سفاکیت کے سامنے بے بس ھیں،
وہ تمام اعتماد میں لیئے گئے افراد اور خفیہ اداروں کے ڈاریکٹرز عالمی انسانی حقوق کے کمیشنوں کے سامنے ایک نہ ایک روز جوابگو اور ذمّہ دارھیں۔ کیا بلوچ
آپکے اس قتل عام اور بربربیت کو فراموش کرکے ایک محب وطن پاکستانی شھری بن سکے گیں؟ جس کا سبق پاکستانی ریاستی دانشور بلوچ قوم کو سکھا رھے ھیں۔
دوسری جانب ڈرائی اور سہمی ذرائع ابلاغ کو بھی کو آپ جان سے مارنےکی دھمکی دے کر ، ان کی توسّط سے عوام الناس کو یہ
یہ پیغام دے رھے ھیں کہ بلوچ دھشتگرد ھیں وہ اسلام کے خلاف امریکنوں ،اسرئیلیوں اور کافر را کے کہنے پرمملکت خدادادی
میں امن وامان کو تباہ کرھے ھیں۔ مگر جتنا اسلام کو آپ نے بدنام کیا شاید اسکی مثال تاریخ میں کئی اور نھیں ملتی، آپ اپنے کئے کرتوتوں
پر روزانہ امریکنوں اور را ایجنٹوں کے سامنے گڑگڑا کر اپنی شرمندگی کی معافی مانگتے ھوں اور یہ ان پر منحصر ھے کہ وہ کس
حد تک آپ کو معاف کردے یا آپ کو اپنے کئے کی سزا دیں ۔ آپ اسکا ذمّہ دار مند اور خضدار کے معصوم بچّے عرفات بلوچ اور بالاچ
بلوچ کو ٹھراتے ھو، کیا آپ بلوچ کے قتل وغارت اور طاقت کا استعمال کرکے یہ جنگ جیت سکوں گیں؟، بلوچوں کی انسانی حقوق اور انکے
حق حاکمیت کی آواز ھمیشہ کے لئے ختم کرسکوں گیں؟، بلوچ سرزمین کے خلاف اپنے ھمسایہ برادر اسلامی کے ساتھ کس حد تک شازشوں
میں کامیاب ھوسکوں گیں؟ اور اپنی بیمار جسم میں کب تک سانس لیتے رھیں گیں؟۔

بدھ 8 ستمبر 2010

’بلوچستان میں اب ڈنڈا استعمال کریں گے‘
دہشت گردی کے مسئلے کے حل کے لیے عید کے بعد ملک بھر کے علماء کا ایک اجلاس بلایا جا ئے گا: رحمان ملک
پاکستان کے وزیرِ داخلہ رحمان ملک نے کہا ہے کہ بلوچستان میں کچھ لوگوں کو حکومت کی پیار کی بات سمجھ میں نہیں آئی ہے اب حالات کو بہتر کرنے کے لیے ڈنڈے کا استعمال کیا جائے گا۔
انھوں نے کہا کہ بلوچستان میں سیاسی جماعتوں کی جگہ مسلح تنظیموں (بی ایل ا ے) اور (بی ایس او) نے لے رکھی ہے جن کے خلاف کاروائی کی جائے گی۔ ’بہت ہوگیا، اب حکومت بلوچستان میں رٹ قائم کرکے دم لیے گی۔‘
وفاقی وزیرداخلہ رحمان ملک نے بلوچستان کے دو روزہ دورے پر کوئٹہ پہنچنے کے بعد ایئرپورٹ پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کراچی کے بعد وہ کوئٹہ اس وقت تک آتے جاتے رہیں گے جب تک بلوچستان میں دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ کے واقعات بند نہیں ہوں گے۔
کوئٹہ میں بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق انہوں نے کہاکہ بلوچستان میں سیاسی جماعتوں کی جگہ مسلح تنظیموں بی ایل اے اور بی ایس او نے لےلی ہے جن کے خلاف اس وقت تک کاروائی کی جائے گی جب تک یہاں دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ کے واقعات ختم نہیں ہوں گے۔ انہوں نے کہاکہ اس مقصد کے لیے وزیراعلیٰ بلوچستان سیمت تمام سیاسی جماعتوں اور قانوں نافذ کرنے والے اداروں کو اعتماد میں لیا جائے گا۔
جمعہ کو کوئٹہ میں ہونے والے خودکش حملے کے بارے ایک سوال کے جواب میں وفاقی وزیر نے کہا کہ خود کش حملے میں لشکر جھنگوی، تحریک طالبان اور القاعدہ ملوث ہیں اور ان کے خلاف کام کرنا وقت کی اشد ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ مذہبی جماعتوں کے جلوسوں پر پابندی عائد کرنے کا کوئی ادارہ نہیں ہے لیکن حکومت نے خودکش حملے کی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔
’لیکن اس وقت ملک میں جو حالات ہیں اس میں دہشت گرد فائدہ اٹھاکر اس طرح کے جلوسوں پر حملے کرتے ہیں لہذا ہم نے مذہبی رہنماؤں سےگذارش کی ہے کہ جو جلوس ہے اس کو کم کردیں یا پھر کسی چاردیواری میں کریں۔‘
رحمان ملک نے کہا کہ اس مسئلے کے حل کے لیے عید کے بعد ملک بھر کے علماء کا ایک اجلاس بلایا جا ئے گا جس میں اس مسئلے کا مستقل حل نکالا جائے گا۔
Source http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2010/09/100908_malikrehman_balochistan.shtml


بانک سمّی رندءِ پریات ءُ حکومت پاکستانءِ پسٌو
سمیر بلوچءِ بیگواھی حال



شهيد ناصر ڈگارزھي
انٹرنیشنل وائس فار بلوچ میسنگ پرسنس
