Thursday, April 28, 2011
بلوچ قومی ہیرو شہید غلام محمد بلوچ و ساتھیوں سے لے کر سینکڑوں بلوچ ہنماﺅں ،سیاسی کارکنوں،طلباءودانشوروں،وکلائ،ادیبوں اور عام فرزندوں کوپاکستانی خفیہ اداروں نے اغواءکرکے اپنے ٹارچر سیلوں میں تشدد کا نشانہ بنایا

بانی رہنما اور بلوچ قومی ہیرو شہید غلام محمد بلوچ و ساتھیوں سے لے کر سینکڑوں بلوچ ہنماﺅں،سیاسی کارکنوں،طلباءودانشوروں،وکلائ،ادیبوں اور عام فرزندوں کو پاکستانی خفیہ اداروں نے اغواءکرکے اپنے ٹارچر سیلوں میں تشدد کا نشانہ بنایا اور ان کی مسخ لاشوں کو ویرانوں میں پھینک دیا جوتاریخ عالم کی بدترین دہشت گرد وارداتوں میں سے ایک ہے،خلیل بلوچ نے مزید کہا کہ پاکستانی خفیہ ادارے علاقائی و عالمی سطح پر دہشت گردی کو بطور پالیسی استعمال کرتے آرہے ہیں،بلوچستان میں بلوچ تحریک آزادی کو کاﺅنٹر کرنے کیلئے سپاہ شہداءاور مسلح دفاع جیسی دہشت گرد بلوچ کش تنظیموںکا قیام،خطے میں اپنی اہمیت منوانے اور عالمی بلیک میلنگ کی غرض سے مذہبی و فرقہ وارانہ دہشت گردی میں ملوث تنظیموں کی حمایت و مدد اور محکوم اقوام کیخلاف ثقافتی،تعلیمی ،معاشی سماجی اور عسکری دہشت گردی اسی سلسلے کی کڑیاںہیں،پاکستانی فاشسٹ ریاست اور اس کے دہشت گرد خفیہ ادارے علاقائی و عالمی امن کیلئے خطرہ بن چکے ہیں جبکہ بلوچ قوم اپنے قوت بازوسے اس خون آشام عفریت سے نبرد آزما ہے اور یہ بلوچ اور اس کی مسلسل جدوجہد کا ثمر ہے کہ آج ریاست اور اس کے عالمی دہشت گرداداروں کا اصلی چہرہ عالمی برادری کے سامنے آشکار ہوچکا ہے۔ بی این ایم کے چیئرمین نے دنیا بھر کے اقوام سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ عالمی برادری کو سیکولر،پرامن اور روادار بلوچ قوم اور اس کی تحریک آزادی کی کھل کر اخلاقی حمایت کرنی چاہیئے،خلیل بلوچ نے دوغلی امریکی پالیسیوںکو ہدف تنقید بناتے ہوئے امریکی عوام سے اپیل کی کہ وہ اپنی حکومت کو ایک درست پالیسی اپنانے پر مجبور کرنے کیلئے دباﺅ ڈالیں۔