Archive

زِردان کے بیٹے

5 جنوری 2012 By admin 1 views
زِردان کے بیٹے

بلوچ گلزمین ءِ جارچین

 وش آتکے

|

 Download Balochi Font and view Balochi text uniquely 

|

Thursday, January 05, 2012

زِردان کے بیٹے بیلی بلوچ

اُس غمزدے سے پوچھ وقتِ سحر کی قیمت

جلتا رہا ہو اس کا خون چراغوں میں رات بھر

یہ شعرکس کا ہے میں نہیں جانتا ،لیکن یہ شعر شہید قمبر چاکر نے اُس رات اپنے کسی عزیز کو sms کیا تھا

جس رات اسکو اغوا کیا گیا۔ وقتِ سحر کی انتظار نے شاید اُسے اتنا بے چین کیا ہو گا کہ اُس نے اس کیفیت ِبے قراری کو بانٹنے کی کوشش کی ہو گی۔لیکن درحقیقت ان عاشقوں کو سمجھنا ےا کہ انکے احساسات کو بانٹنا اتنا آسان نہیں ہے جو انسانی وقار اور عظمت کیلئے اپنے جان تک کی بازی لگادیتے ہیں۔ شہید قمبر چاکر ایک عظیم بلوچ،ایک منفرد لیڈر،ایک دردمند بھائی اور ایک ہر دلعزیزدوست تھے۔زمین کی محبت ،اپنے لوگوں کی درد اور ظلم و بے رحمی نے اُسے ذہنی طور پر وقت سے پہلے ایک بوڑھا دانشور بنا دیا تھا اور وہ اپنی حرکات سے کوئی روسی انقلاب کے کامریڈ دکھائی دیتے تھے۔

بلوچ قوم کی ےہ عظیم فرزند 7 اکتوبر 1987کو الندور نامی گاﺅں میں پیدا ہوئے۔ یہ گاﺅںتربت شہر سے تقریباََ 60 کلو میٹر کے فاصلے پر ہے۔اُس گاﺅں میں قمبر کے گھر کے سامنے ایک چھو ٹی سی ریگستا نی خشک ندی ہے جسے زِردان کہتے ہیں ۔بچپن میں اپنے ہم عمر بچوںکے ساتھ وہ زِردان میں کھیلنے جاتے تھے۔خشک ریت میں کھیلنے کی وجہ سے اسکے کپڑے دھول سے لت پت ہوتے اور جب خاندان کے کسی بڑھے کی نظر پڑتی تو سمجھو شامت آئی ہے۔ بڑوں کو دیکھ کر چھوٹا قمبربھی عام بچوں کی طرح گھرکی طرف باگ جاتے۔(بعد میں جب اُس سے باتیں ہوئیں تواُ س نے ایک دفعہ کہا تھا © © © ©،، © © © © ©کتنا فطری عمل ہے آدمی تھک ہار کر ،ڈر کر اپنے گھر کی طرف جاتا ہے اورجب گھر ہی اپنی نہ ہو تو کیا رہ جاتا ہے ،،شہید کی زندگی زِردان سے بہت نزدیکی رکھتی تھی۔خشک، پیاسی جلی ہوئی زِردان کی طرح شہید کی زندگی غم،درد و الم سے بری پڑی تھی۔بچپن میں اپنے ماں باپ کے الگ ہونے کی وجہ سے چھوٹا قمبر اپنے نانا واجہ محمد امین کے ساتھ رہتے تھے۔نانا کو قمبر سے بے حد پیار تھا اکثر مسجد میں جاتے یا کسی دوسرے کو ملنے جا تے قمبر ساتھ ہوتا اس لئے قمبر اپنے ہم عمر بچوں سے الگ ہو تاگیا۔میں جماعت ِ چارم تک قمبر کا ہم جماعت تھا۔مجھے یاد نہیں کہ کوئی اُسکا دوست تھا ۔وہ کلاس میں سب سے آگے بیٹھتے ،پوری دھان پڑھائی پر ہوتی اور کلاس میں سب سے زیادہ قابل تھا اسلئے استاد بھی چھوٹے قمبر کی عزت کرتے تھے۔جماعت چہارم کے بعد شہید کے خاندان نے الندور سے نکل کر شاہی تمپ تربت میں آ کر آباد ہو گئے۔

تربت میں قمبر نے شاہی تمپ ہائی اسکول میں داخلہ لیا۔کچھ وقت اُدھر پڑھنے کے بعد اُس نے کیچ گرائمر ہائی اسکول میں داخلہ لے لی (جو آج کل ایک انٹر میڈیٹ کالج ہے)۔اسی دوران قمبر نے اپنے کزن کے ساتھ اپنے گھرکے قریب ایک چھوٹا سا دکان کھولا۔اسکول سے چھٹی کے بعد وہ دکان میں بیٹھتے تھے۔ادھر بیٹھ کر وہ اسکول کے کام کرتے کتابیں پڑھتے ،اور کبھی کبھی دوپہر کو گھر کے دوسرے لڑکوں کے ساتھ اپنے دوکان کے سامنے کرکٹ بھی کھیلتے تھے۔دکان کھلوانے کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ وہ پابند ہو جائیں۔

گھر کا ماحول کچھ سخت تھا۔فضول گومنے پھرنے کی اجازت نہ تھی۔بہت کم کھیلنے دےتے تھے۔وقت پر سونا،وقت پر کھانا،وقت پر اُٹھنا وغیرہ۔ سارے لڑکے بڑوں سے ڈرتے تھے۔اس لیئے ان کی غیر حاضری کو نعمت سمجھ کر چھوٹے خوب مستیاں کرتے تھے۔چھوٹے اپنے دنیا بڑوں سے چھپاتے گئے اور دِیرے دِیرے انکی دنیا انکی بڑوں کی دنیا سے الگ ہوتی گئی۔

2004میں جب قمبر چاکر نے کیچ گرائمر سے میٹرک پاس کرلےا تو عطا شاد ڈگری کالج تربت میں FSc(pre-medical)ایف اس سی (فری میڈیکل )کےلئے داخلہ لے لی۔2000کے بعد بلوچستان کے حالات بھی بہت تیزی سے بدل رہے تھے۔مکران میں پہلی بار بڑے پیمانے پر بقول سرکار ترقیاتی کام شروع کئے گئے۔عالمی تجارت کواپنے طرف کھینچنے کیلئے گوادر پورٹ بن رہاتھا۔پورٹ کو عالمی منڈیوں تک پہنچانے کیلئے کوسٹل ہائی وی اور طاقتور طبقہ جو پورٹ کو چلاتاہے اُنکے لئے اور وہ آبادی جسکے لئے یہ سب ہو رہا تھا۔میرانی ڈیم بنائی جارہی تھی۔انکے تازہ خوراک کیلئے دشت کے زمینوں کو کھیتی باڑی کیلئے تیار کیاگیا اورانہیں میرانی ڈیم سے وافر مقدار میں پانی فراہم کی گئی ۔دشت اور گوادر کے قریب پورٹ اور اس سے فائدہ لینے والے طبقے کی خفاظت کیلئے آرمی کے لئے چاونیا ںبن رہی تھی۔گوادر کے عام بلوچوں سے انکے زمینیں حیران کن داموں میں خریدی جا رہی تھیں۔دوسری طرف سندک میں کام کی تیزی،مری علاقوں میں تیل کی تلاش۔بلوچستان کے مادنیات کو نکالنے کےلئے  ورپی ،چینی اورنارت امریکی (North American) کمپنیوں کو دعوتیں دی جا رہی تھیں۔تین فریقی گیس پائپ لائیں اسکا بھی تعلق گوادر کے نئے کارخانوں کو گیس مہیا کرنا تھا کے چرچے ہورہے تھے ،آبادکاری وغیرہ۔غرض  ہ کہ بہت بڑی تبدیلی آ رہی تھی۔لوگ  ہ سمجھنے کی کوشش کر رہے تھے  ہ سب کچھ کس کیلئے ہو رہے ہ ں۔بلوچ جو( پاکستان کے سب سے بڑے میڈیاچینل جیو کے مطابق)63% غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں ۔جہاں شرخ خواندگی صرف 18%ہے۔80%علاقے 21و ں صدی میں بجلی کی سہولت سے محروم ہیں اور جہاں70% فیصد بچے اسکول سے محروم ہوں،وہاں کے لوگوں کی ضرور تیںبلکل مختلف تھیں۔انکو گوادر پورٹ سے زیادہ اسکولوںو کالجو ں اور چھاونیوں سے زیادہ ہسپتالوں کی ضرورت تھیں۔بہر حال لوگ سمجھنے لگے ،سیاسی بیداری بڑھتی گئی، لوگ سیاست کی طرف کچھ زیادہ تیزی سے جانے لگے۔

اسی پس منظرمیں نوجوان قمبر چاکر بی ایس او(متحدہ)میں شامل ہو گئے۔16سال کی عمر میں اُسنے سیاست کاآغاز کرلیا۔بی ایس او (متحدہ ) کی موقف واضع تھی وہ آزادی کے لیے جد وجہد کرتے تھے۔انکی بنیادی مقصد قوم کی بیداری اور طلبہ کی ایسی پلیٹ فارم تھی جس سے وہ اپنے آواز دوسروںتک پہنچاسکیںقمبر بی ایس او(متحدہ)میں شامل ہونے کے بعد بلکل بدل سے گئے۔ وہ تنظیمی کاموں میں پیش پیش تھے،اخبار پڑھنے کی عاد ت لگی،کتابوں سے زیادہ قریب ہوتے گئے اور ہم پرانے دوستوںسے کچھ بیچڑ سے گئے۔اسلیے اسکے کچھ دوست اُسے چھوٹا کامریڈ کے نام سے پکارتے تھے۔اس دو سال کے دوران سیاسی ہلکوںمیں قمبر کو اکثر لوگ جانتے تھے ۔تنظیمی کاموں کے ساتھ ساتھ اسنے ) Specific English language centre)سےAdvance بھی کر لیا اور کچھ مہینے اس نے (SELC)میں انگلش بھی پڑھایا۔

2006 میں FSc.کے امتخان دینے کے بعدکچھ مہینے کیلئے کراچی میں pre-medicalکی تیاری کی جسکا وہ اتنا شوقین نہیں تھے اور پھر کوئٹہ آگئے۔بلوچستان یونیورسٹی اف انفارمیشن ٹیکنالوجی انجینئرنگ اینڈ منیجمنٹ سائنس(Balochistan University of Information Technology,Engineering and Management Sciences)

میں BS(economics) میں داخلہ لیا۔سیاسی سر گرمیوں کی وجہ سے وہ BUITTEMS میں کم بولان میڈیکل کالج اور بلوچستاںیونیورسٹی میں زیادہ دکھائی دیتے تھے۔

وقت کے ساتھ چیزیں بدل جاتی ہیںلیکن جہاں تبدیلی کا عمل تیزہو وہاں تو بہت کچھ بدل جاتا ہے۔قمبر کے اس چھوٹے سے سیاسی سفر میں بھی بہت کچھ بدل چکا تھا ۔بی ایس اوکا انضمام ہواجو بہت جلد ٹوٹ گیا۔پرانی بی ایس او (متحدہ)کوئی تازہ چہرے کے ساتھ بی اےس او (آزاد) بن گیا۔نواب اکبر بگٹی شہید کردیئے گئے۔ پھر سیاسی کارکنوں پر ایک نا ختم ہونی والی کریک ڈاﺅںشروع ہوا۔ہزاروں کے تعدادمیں لوگوں کو اغوا کر لیا گیا۔شہید غلام محمد اور اسکے ساتھیوں کی لاشیں مرگاپ میں پھینکی گئی۔ظلم کافی حد تک بڑھ چکا تھا۔ اس ساری صورتِ حال لوگ اِدھراُدھر دوڑرہے تھے۔سیاسی حالات بہت کم مدت میں ایک غیر یقینی صورت اختیار کر چکے تھے۔اور دوسری طرف قمبر چاکر اپنے کمزور خدو حال کے ساتھ بائیںبازو کے صفوں میں قدرے اطمینان کے ساتھ کھڑے تھے۔ بی اےس او (آزاد)کے سنٹرل اورکوئٹہ زون کے کاموں میں حصہ لینے کے ساتھ ساتھ قمبرچاکر بڑی کامیابی سے BUITEMSمیں بلوچ طلبہ کی کوٹہ کے لئے لڑ رہے تھے۔بھوک ہڑتال،درنا،ریلی،کلاسوں کی بائےکاٹ ان سب چیزوںکی وجہ سے پوری میڈیاکی نگاہ بی اےس او (آزاد)پر تھیں۔اوراس پورے شورکے پیچے نوجوان قمبر چاکر کابڑا ہاتھ تھا۔اس نوجوان کواب کچھ ڈرانے دھمکانے کی ضرورت تھی۔ریاست نے یہ کام بھی بڑی آسودگی سے دن دھاڑے کر دکھایا۔10جولائی 2009کو قمبر چاکر اپنے کچھ دوستوں کے ساتھ اپنے ےونیورسٹی BUITEMS کے uniformپہنے گاڑی میں سوار یونیورسٹی کے وائیس چانسلر کو ملنے جا رہے رتھے کہ راستے میں FC والو ں نے انکو روک لیا( چشمدید گواہوں کے مطابق )تلاشی کے دوران کسی نے اسکے جیب میں بمب رکھ کر قمبر چاکر کو یہ کہاکہ بمب کہاں سے لایا؟پھر قمبر کو اٹھا کر اپنے ساتھ لے گئے۔ایک رات انکے ساتھ گزارنا پڑھا۔اسی رات قمبر چاکر کو بڑی بے دردی سے ٹارچرکیا گیا۔وہ کہتے تھے کہ جسمانی طور پر کمزور ہونے کی وجہ سے میں بہت جلد بے ہوش ہوتا تھااور جب ہوش میں آتا مجھ سے سوالات کرتے اور ٹاچر کرتے۔ دوسرے دن قمبر کو تھانے شپٹ کر لیا گیا۔قمبر کے متعلق خوفیا ادارے کے لوگ اُدھر بھی اُ س کو تپتیش کرنے کیلئے آتے تھے۔کچھ دن بعد قمبر چاکر کو عدالت میں لاےا گیاوہ بامشکل چلنے پھرنے کے قابل تھے۔پھر عدالت میں کیس چلتا گیا ایک کیس میںبَری ہوتے توفوراََدوسرا لایا جاتا ۔نو مہینے تک یہ سلسلہ چلتا رہا۔ اِس دوران قمبرچاکر ہدہ جیل کوئٹہ رکھے گئے۔اتفاق کی بات یہ تھی کہ ادھر بلوچ قومی تحریک کے ایک مشہور لیڈر واحد قمبربھی جیل تھے اور قمبرچاکرکو واحد قمبر کے ساتھ ایک سیل میں رکھا گیا۔ قمبرچاکرکے مطابق جو واحد قمبرکو واجہ کے نام سے پکارتے تھے۔ اُس نے کہا واجہ سے بہت کچھ سیکھنے کو ملا۔شاید اسلئے نوجوان قمبرچاکرجیل کی تنہائیوں اورمایوسیوں کے بجائے فکری طور پر مضوط تر ہوتے گئے۔دورانِ اسیری جب اس سے باتیں ہوتیں تو وہ بالکل زہنی طور پرپر سکوں معلوم ہوتے لیکن پھر بھی میں تسلی دینے کے لئے اپنے ہی انداز میں کہتا ،،یار قمبرآپکی خیر چھوٹی جیل ہے ہماری باہر کی دنیا تو ایک بہت بڑی جیل ہے اسلئے خوش رہو آپ ہم سے چھوٹے جیل میں قید ہیں،، اس بات پر وہ ہنستے اور مجھے خوشی ہوتی۔آخرکار 22 اپریل 2010 کو اُسے جیل سے رہا کر دیا گیا۔جب وہ تربت آ گئے تو پہلی باربعدِاسیری اسکے والد صاحب کے بیٹھک میں اس سے ملاقات ہوئی۔کتنی سادگی تھی اُس شخص میں۔ لوگ عموماََکچھ قربانی دینے کے بعد اپنے آپکو تھوڑی عزت و بلندی کے مستحق سمجھتے ہیں لیکن یہ قمبر کچھ الگ ہی تھا۔ وہی پرانی سادہ سی ہنسی اسکے چہرے پر تھا۔ لوگ اسکو دیکھنے آتے تو وہ خود کھڑے ہو کر چائے پانی پیش کرتے کیوںکہ بیٹھک میں سب سے چھوٹا وہی تھا۔ بلوچیت سے سرشار قمبر چاکر کو یہ گوارا نہیںتھا کہ کوئی بڑا کھڑا ہو جائے اور وہ بیٹھے رہے۔اُس دن کے بعد قمبر چاکر سے بہت سے ملاقاتیں ہوئیں۔ دوستی اور رشتہ داری کی وجہ سے انکے گھر میں آنا جانا تھااور اس سے کافی بحث مباحثہ ہوتا تھا۔

فکری دوری کی وجہ سے وہ تنظیمی کاموں کے حوالے سے ہم سے بہت کم بولتے تھے لیکن پھر بھی اِن سنجیدہ اور غیر سنجیدہ بحث مباحثوںمیں جہاں تک میں شہید قمبر چاکر کو سمجھ سکا وہ مختصراََکچھ یوں ہے۔وہ آساں لفظوںمیں کہتے تھے کہ پاکستان اور ایران نے جبراََ بلوچ زمین پر قبضہ کیا ہوا ہے۔بلوچ کی جدوجہد اپنے زمین کو واپس لے کر آزادی حاصل کرنی ہے۔ جب میں ان سے پوچھتا کہ آپ آزادی کیسے حاصل کر سکتے ہیں۔تو وہ کہتے کہ قومیں کسی ریاستی فوج وغیرے سے زیادہ طاقتور ہوتے ہیں۔ بس انکو نظم و نسق،صحیح سمت اور ایک دوسرے کے ساتھ مل کرکام کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔وہ کہتے تاریح گواہ ہے جب دنیا میں کسی قوم نے اپنے راستے کا تعین کر لیا تو انہیں کوئی شکست نہ دے سکا۔وہ دو سرے بلوچ لیڈروں کی طرح ویتنام، الجئیریا، کیوبا، اسرئیل وغیرہ کی مثالیںدیتے تھے۔کبھی کبھی وہ زہنی سادگی سے دور کوئی فلسفی، سوفی یامجنوں سی باتیں بھی کرتے تھے۔ایک دفعہ اس نے کہا، ،زندگی کی عجیب قیمت ہے جو مر کر ہی دیناپڑتاہے،،۔ایک دن گھر میں سارے رشتہ داروں دوستوں کے ساتھ ہم بیٹھے تھے۔ بڑی ہنسی خوشی کی ہورہیں تھیں میں نے شہید سے پوچھاکہ کیاہم ہمیشہ ایسے ہی ایک دوسرے کے ساتھ رہیں گے۔تو اس نے کچھ سنجیدہ ہو کر کہا کہ ،، صحیح دوستی فکری بنیادوں پر ہوتی ہے ورنہ راستے بدلنے سے لوگ بچھڑ جاتے ہیں،، کتنی بڑی سچ کتنی آسانی سے اُس نے کہہ دیا۔

بلوچ ideology کے سوال پروہ کہتے تھے کہ قوم پرستی(نیشلزم) دوسرے جنگ عظیم کے بعد دنیا کاسب سے بڑا ideology ہے اور ہم یہ دیکھتے ہیںکہ دنیا میں لوگ اپنے شناخت کیلئے بہت سی قربانیاں دے رہے ہیں۔وہ کسی او ر تنظیم کے بجائے بلوچ گوریلا تنظیموںسے زیادہ متاثرتھے۔وہ کہتے تھے کہ بندوق کی آواز سب کو اپنی طرف متوجہ کرسکتی ہے۔اس دنیا سے اخلاقی اقتداریں ختم ہوتی جا رہی ہیں ۔ہر جگہ خوفیااداروںکی بندوق کے زور پر طاقت کا راج ہے اس طاقت کو ختم کرنے کیلئے طاقت ہی کی ضرورت ہے ۔ان سب باتوں کے باجود میں یہ کبھی نہیں جان سکاکہ اسکے کسی گوریلا تنظیم سے تعلق ہے یا نہیں ۔وہ تنظیموں کے بارے میں کہتے جس تنظیم میں rule and regulationاور ڈسلپن نہ ہو تواس تنظیم اور کسی لوگو ں کے عام گروپ میں کوئی فرق نہیں رہ جاتا۔ بعد میں کچھ لوگو ں سے سننے کو ملا کہ شہید بی ایس او(آزاد)میں بہت سخت تھے۔اسکے سامنے اسکے بڑے کسی بازاری یا غیرسنجیدہ حرکت کرنے سے ڈرتے تھے۔جب کبھی ہم میں سے کوئی کسی تنظیم کے فردپر یاکوئی بازاری شوقیا قوم پرست پر تنقیدکرتے تھے تو وہ اس بات کو مانتے کہ ابھی تک قومی حوالے سے انقلابی رویے کا فقدان ہے۔وہ اس بات پرزوردیتے تھے کہ غلام کی زندگی اسکے آقا کی زندگی سے بلکل مختلف ہوتی ہے۔ لیکن ہمارے دوست جن کے پاس تھوڑے بہت سہولتیںموجودہیں وہ اِن چیزوں کو بڑی آسانی سے نظراندازکر دیتے ہیں۔جسکی وجہ سے وہ declassہو کر صحیح انقلابی طبقوں سے دور ہوتے جائیں گے۔قمبر چاکر شہیدغلام محمدبلوچ، شہیدفدابلوچ، ڈاکٹراللہ نظربلوچ،خیر بخش مری سے بہت متاثرتھے۔میں نے اُس سے یہ پوچھا تھا کہ وہ کونسی چیزیں ہیںجو بلوچ کو اس بڑے ریاست کے خلاف دوسرے صف میں لے کھڑا کریں گے۔تو اُس نے کہا بلوچ کی بلوچیت اور اُسکی علمی و شعوری پختگی۔

قمبرچاکرشخصی اعتبارسے بھی باقی دوستوں سے کافی محتلف تھے۔وہ چیزوں کو بانٹنے میں بے تکلف تھے۔ پیسہ،سواری ،شان و شوکت سے نہیں کتابوں سے محبت کرنے والے آدمی تھے۔کتابیں خود پڑھ کر دوسروں کو دینے کے باوجود آج بھی اُس کے الماری میں کچھ 200سے زیادہ بہتریںکتابیں موجود ہیں۔اُس کی جمع کی ہوئی بیشترکتابیں ادب،تاریخ اور سیاست پرمبنی ہیں۔ بلوچی فلموں کے بھی شوقین تھے۔اس نے تین بلوچی فلموں میں کام کیاتھا۔یہ فلمیں 2004,2003 اور2006میں بنائی گئی تھیںاور قمبر چاکر بلوچ ڈرامہ ٹک سوسائیٹی تربت کے نائب صدر بھی رہے ۔ادب سے بہت رقبت تھی۔ اُسکے پسندیدہ ناول، Love in a torn land ،تھا جو ایک کرُدستانی لڑکی پر لکھی گئی تھی۔اور جس رات اُسکو آخری بار اغوا کر لیا گیا تو صبح اُس کے سرخانے سے کتاب ، سوفی کی دنیا، اور اُسکے سبز چادر ملے۔ اپنے گھر میں اُس آخری رات وہ فلسفہ پڑھ رہاتھا۔عام طور پروہ کھانے ،پینے،کپڑے،بال وغیروں کے بہت کم خیال رکھتے تھے۔نوجوان قمبر چاکر کی نظریں کہیں ٹھہری ہوئیں تھیں اور وہ ہر پھل بڑی بے صبری سے اُسی سمت چلے جا رہے تھے۔زمین کی بے پناہ محبت نے نوجوان قمبر کو کیا کچھ بنا دیا تھا۔

جب وہ پہلی بار جیل سے رہا ہوئے تھے۔اُس کی باتوں سے میں جان گیا تھا کہ حاکمِ وقت کی سخت ازیت اور دھمکیوںسے وہ ڈرنے کے بجائے اور زیادہ انکے خلاف ہو چکے ہیں۔تب میںنے اس سے کہا تھا۔قمبر جاﺅ کہیں یورپ وغیرہ میں کچھ پڑھ لو۔تو وہ کہتے کہ کہیں جاﺅں تو واپس یہاں آنا ہے۔میں کہتا گیا اور وہ ٹالتے گئے ۔وقت ہاتھ سے نکلتا گیا۔ایک اور بات جو میں نے محسوس کی وہ یہ تھی کہ وہ آرام دہ چیزوں سے دور ہوتا جا رہا تھا۔ ایک دن کسی ائیرکنڑیشنل کمرے میںہم بیٹھے تھے کہ اُس نے کہا تھا ۔کیا کسی کوپتہ ہے کہ ہم اِدھر ائیرکنڑیشنل کمرے میںبیٹھ کرکباب کھا چکے ہیں اُدھرذاکر مجید اپنے ہزاروں دوستوں کے ساتھ اپنے لوگوں کیلئے میرے اور آپکے لیے انسانیت سوز ازیتیںسہہ رہے ہیں۔یہ سوچ کرکہ ہم انکے ساتھ ہیں یہ قوم ہم انکے ساتھ ہے۔ میں نے فوراََ اس کو کہا تھا یار قمبر زندہ رہنے کی کوشش کرو وہ مسکرا کر بو لے یہی توہم کر رہے ہیں۔

ہر نئے دن کے ساتھ وہ تنظیمی کاموں میں اور زیادہ مصروف ہوتے گئے۔اسی دوران وہ بی ایس او (آزاد)کے سنٹرل کمیٹی کے رکن بھی منتخب ہوئے۔ یونٹ سازی،اسٹڑی سرکل اور لکچرز دینے کیلئے وہ کبھی کہیں جاتے۔بی ایس او(آزاد)کو ایک نئی روح دینے کیلئے ۔اسکے ممبروں کو نظرےاتی اور عملی طور پر مضبوط بنانے کے لئے وہ دن رات ایک کر کے بڑی جوانمردی سے کام کر رہے تھے۔آخرکار اُسنے ذاکر مجید اوردوسرے بلوچ اسیران کی رہائی کیلئے تربت تاریخ کا سب سے بڑا ریلی بھی نکلا۔ان سب چیزوں کو دیکھ کر ریاست یہ جان چکا تھا کہ وہ اس کمزور جسم بلوچ نوجوان قمبر چاکر کو ڈرانے دھمکانے میں بلکل ناکام ہو چکا ہے۔

اسی لیے 26/11/2010 کی رات کچھ تین بجے کے قریب قمبر چاکر اور اُسکے کزن کو ایجنسی والے انکے گھر سے اٹھا کرلے گئے۔ انکی رہائی کیلئے خاندان کی طرف سے بھوک ہڑتالی کیمپ لگائی گئی۔ وزیروںاور وڈیروںکی دروازوں پر دستکیںدی گئیں۔ تنظیمی طور پر عالمی برادری اور انسانیت کے پرچار کرنے والے اداروں سے قمبر چاکر کی بازیابی کیلئے اپیلیں کی گئیں۔لیکن بل آخر 05/01/2011 میں مرگاپ سے اسکی ازیت زدہ گولیوں سے چلنی لاش ہمیں ملی۔اسکے باوجود شہید کے جنازے میں دور و درازسے آنے والے لوگوںکوروکا گیا۔رات 10 بجے آشکبار آنکھوں سے شہید کی جنازہ گوشتنگ قبرسان میںپڑھائی گئی۔ شہید کو اسکے خاندان کے دوسرے لوگوں کے قریب دفنایاگیا۔ پھر بھی کبھی کبھی میںسوچتا ہوں کہ زِردان آج بھی پیاسی ہے لیکن اب اسکے دامن میں شہید قمبر کی بے شمار یادیں ہیں۔

 

 

 

admin

Written by admin