بلوچ کمانڈر ڈاکٹر اللہ نزر سے ایک گفتگو

سوال :بین الاقوامی حالات کس سمت جارہے ہیں ؟ ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ : سوویت یونین کے ٹوٹنے کے بعد جس دنیا کو پونی پولر کہاجاتا ہے جہاں سرمایہ دار بلاک کا راج ہے وہاں بڑے بڑے مسائل نے سر اٹھایا ہے جس میں اہم ترین مسئلہ محکوم اقوام کی آرزوں کا ہے ہم اس حوالے سے سمجھتے ہیں کہ یہ وقت نیشنلزم اور محکوم قوموں کی آزادی کی صدی کا ہے ۔ دنیا کے بعض ممالک میں قومی مسئلہ سراٹھا رہا ہے اور قومی مسئلے کی حل کی طرف گامزن ہیں ۔ سوال : نیٹو افواج افغانستان سے نکل رہی ہیں کیا نیٹو اپنے مقاصد حاصل کرنے میں کامیاب ہوا ؟ ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ : کسی حد تک کامیاب ہوئے ہیں امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے خطے میں معاشی فوائد ہیں جو بلوچ قومی مسئلے کے حل کے ساتھ بھی جڑے ہوئے ہیں ۔اگر وسطی ایشیاءکے ریاستوں کے وسائل گیس ، تیل مغربی منڈیوں تک پہنچانا چاہتے ہیں تو یہ واحد راستہ بلوچ کا ہے تاوقتیکہ بلوچ مسئلہ قومی آزادی کو حل نہ کیا گیا اس وقت تک ان کے مقاصد ادھورے رہیں گے کیونکہ اس خطے میں مسائل کا دائمی حل بلوچ اور دیگر مظلوم اقوام کی آزادی سے جڑا ہے ۔ سوال: آپ اسامہ بن لادن کی گرفتاری اور ہلاکت کو کس نظر سے دیکھتے ہیں ؟ ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ : اسامہ بن لادن ان کا پیدا کردہ تھا وہ پاکستان کےلئے ( آئی ایس آئی ) ایک سونے کا انڈہ دینے والی مرغی کے مانند تھا میں سمجھتا ہوں کہ اسامہ بن لادن کی گرفتاری کی جتنی خوشی امریکہ کو ہوئی ہے اتنا ہی دکھ پاکستان کو پہنچا کیونکہ اس کی فوج نے ایک کریڈٹ کارڈ کھودیا ۔ سوال : مڈل ایسٹ میں آنے والی حالیہ تبدیلیوں سے دنیا خصوصاً بلوچ معاشرے پر کیا اثرات مرتب ہونگے کچھ وضاحت کرنا پسند فرمائیں گے ؟ ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ : مڈل ایسٹ کے دائمی مسائل کا حل فلسطین کی آزادی کے ساتھ جڑا ہے تاوقتیکہ اسے آزاد ریاست تسلیم نہیں کیا جاتا اور اس کے سرحدات کی حفاظت نہیں کی جاتی اس وقت تک وہاں امن کا خواب ادھورا رہیگا جہاں تک مصر ، تیونس ، یمن کے افراد کا مقامی جذبہ ہے یہ اتنا بڑا دھماکہ نہیں ہے البتہ جہاں بھی دنیا میں کوئی تبدیلی آئے اس کے اچھے ، برے اثرات ہم پر مرتب ہونگے ہماری کوشش ہوگی کہ ان کے مثبت اثرات لے لیں ۔ سوال : مغربی بلوچستان میں بلوچوں کے ساتھ ایران کا برتاﺅ کیسا ہے اور عبدالمالک ریکی کی گرفتاری پر آپ کے تاثرات کیا ہیں ؟ ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ :ایران میں بھی بلوچوں کے ساتھ وہی سلوک ہورہا ہے جو پاکستان میں ہمارے ساتھ ہورہا ہے ۔ وہاں بھی بلوچ غلام ہیں ان کی بھی خواہش ہے کہ مشرق اور شمال میں ان کے بھائی آزاد رہیں اور ان کے ساتھ ان کا اٹھنا بیٹھنا ہو اور وہ بھی آزاد ریاست کے خواہاں ہیں ۔ ایران میں بھی بلوچوں کو سفاکانہ طریقے سے قتل کیا جاتا ہے جن کی تعداد ہزاروں میں ہے ان کے اور پاکستان کے قتل میں صرف ایک فرق ہے وہ یہ کہ پاکستان بلوچوں کو قتل کرکے ویرانوں میں لاش پھینکتی ہے اور وہ ( ایران ) سرعام بلوچ قوم کے سامنے چورائے پر لٹکا کر قتل کرتا ہے یعنی رویہ ایک ہی ہے ۔ جہاں تک عبدالمالک کی گرفتاری اور قتل کا سوال ہے مجھے بحیثیت بلوچ ایک بلوچ کے قتل پر افسوس ہے ۔ سوال : چین اور امریکہ کے اسٹریٹجک مفادات بھارت ، ایران ، افغانستان اور پاکستان کے معاشی مفادات اور بالخصوص توانائی کے ذرائع تک رسائی کی جنگ کے بلوچستان پر کیا اثرات مرتب ہونگے ؟ ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ : اسٹریٹجک مفادات ہر کسی کے مختلف ہیں مگر وہ پاکستان کے ذریعے اسٹریٹجک مفادات اور معاشی فوائد بلوچستان سے حاصل کرنا چاہتے ہیں بلوچ قوم کے حوالے سے میں سمجھتا ہوں کہ کوئی دشمن کو مدد دے وہ ایک ایمپیر یلسٹ ہے جیسا کہ چین پاکستان کو بلوچ کے خلاف ملٹری سپورٹ دے رہا ہے بلوچ اس کردار کو سامراجی کہنے پر مجبور ہے ۔ مختصراًًمفادات کی جنگ بلوچ کےلئے نیک شگون نہیں ۔ سوال: سنا ہے پاکستان بلوچ سرمچاروں کے خلاف کارپٹ بم اور دوسرے کیمیائی ہتھیار استعمال کررہا ہے کیا خیال ہے ایٹم بم استعمال کرسکتا ہے ؟ ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ : ایسے خطرناک ہتھیار قبضہ گیر ہر وقت اپنے دشمن کے خلاف اسے نیست ونابود کرنے کےلئے استعمال کرتا ہے ۔ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ان کا بڑا مقصد بلوچ قوم کی نسل کشی ہے اور وہ اس نسل کشی کو تیزی سے سرانجام دے رہا ہے۔ آج ہمارے ساتھ ساتھ دنیا کے مہذب اور سیکولر فکرکے لوگوں کو بھی فکر لاحق ہے کہ اس کا ایٹم بم انتہائی غیر محفوظ ہے ۔ یہ غیر ذمہ دارانہ ہاتھ اور غیر ذمہ دارانہ سوچ اس کو جب چاہے انسانیت کے تباہی کےلئے استعمال کرسکتا ہے ۔ سوال : پاکستان کو حالیہ دس سالہ بلوچ جنگ میں کتنا نقصان پہنچا ہے کوئی اندازہ ہے ؟ ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ : شاید پاکستان کو خود معلوم نہیں ہے کہ اس کا کتنا نقصان ہوا ہے یہی وجہ ہے کہ وہ اب تک بلوچستان میں بیٹھا ہوا ہے تاہم اس جنگ سے بلوچوں کو زیادہ فائدہ پہنچا ہے ۔ جس کی مثال یہ ہے کہ دنیا کا بڑا انسانی ریلا ڈیپ سی پورٹ اور دوسرے پروجیکٹ کے نام پر بلوچ کو ختم کرنے اور ہضم کرنے آرہاتھا ۔ اس جنگ سے رک گیا اور قابض کا منصوبہ ناکام ہوگیا۔ ایک وضاحت کرتا چلوں کہ بلوچ اپنی آزادی کے بارے میں حساس ہے بلوچ قوم میں بڑی فکری ، شعوری تبدیلی آچکی ہے اور یہ تبدیلی کا حاصل صرف آزاد ریاست ( بلوچستان ) ہے ۔ سوال: کیا پاکستان سے مذاکرات ہوسکتے ہیں ؟ ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ : ناممکن ،سوائے آزادی کے۔ ہاں آگے بتاتا چلو ںکہ کسی نے بھی اگر بلوچ قوم کی زندگی کی قیمت پر قبضہ گیر پاکستان کے ساتھ مذاکرات اور مفاہمت کی کوشش کی تو وہ بلوچ قوم کےلئے قابل قبول نہیں ہوگا ۔ سوال : آزادی پسند جماعتیں کس حد تک منظم ہیں ؟ ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ : جہاں تک آزادی پسندوں کے منظم ہونے کی بات ہے آپ ہر آزادی پسند جماعت کے کردار کو دیکھتے ہیں یا تجزیہ کرتے ہیں کہ تو صاف نظر آتا ہے کہ بلوچ قوم انتہائی کرب ناک مراحل سے گزررہا ہے ۔آج بھی اپنی قوم کےلئے آزادی کی جنگ کو لڑنے والوں کو بیرونی اور اندرونی طورپر کنٹرول کرنے کے حربے ڈھونڈے جارہے ہیں اور وہ عوامل ایکٹو اور سرگرم ہوچکے ہیں لیکن بلوچ آزادی پسند جماعتیں اس کے باوجود آج تک تسلسل کے ساتھ بغیر کسی رکاوٹ کے آزادی کی جنگ کو حوصلے کے ساتھ آگے لے جارہے ہیں تاہم میرے نزدیک ان کو بحیثیت نعم البدل ریاست کے مزید منظم ہونے کی ضرورت ہے ۔ سوال : آپ کے نزدیک قوم پرستی کا معیار کیا ہے اور موجودہ حالات میں کس جماعت کو قوم پرست جماعت کہاجاسکتا ہے ؟ ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ :قوم پرستی کا معیار شایدکسی کا اپنا ہو لیکن میں اپنے متعلق کہہ سکتا ہوں کہ جو قومی آزادی کےلئے عسکری و سیاسی جنگ لڑے اور قومی آزادی کےلئے قربان ہونے پر تیار ہو وہ حقیقی قوم پرست ہے لیکن جو شہداءکی لاشوں پر رقص کرکے اپنے لئے مراعات لے اور مخصوص طبقہ کو فائدہ پہنچائے وہ قوم پرستی کی تعریف پر پورا نہیںاترتا ۔جیساکہ بلوچ کے اندر وفاق پرست جماعتیں ، بی این پی ( بلوچستان نیشنل پارٹی ) بلوچستان نیشنل پارٹی عوامی اور نیشنل پارٹی ہیں یہ جماعتیں بلوچ کا نام لیکر سیاست کررہی ہیں لیکن حقیقتاً ان کا کام بلوچ کے خلاف ان کی آزادی کے خلاف ہے وہ بلوچ کے دشمن پاکستان کو کمک دیکر اس کا کام آسان کررہے ہیں ۔ سوال : آپ کے خیال میں بین الاقوامی سطح پر بلوچ مسئلہ کتنا ہائی لائٹ ہوا ہے ؟ ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ : بلوچ شہداءکی قربانیوں اور بلوچ سرمچاروں کی جہد مسلسل کی وجہ سے بلوچ آزادی کی آواز دنیا تک پہنچ چکی ہے اور بلوچ دنیا کو بھی باور کرانے میں کامیاب ہوچکے ہیں کہ و ہ اپنے جغرافیائی حدود میں رہ کر آزادی اور خود مختیار وطن کے حصول کی خاطر جنگ لڑ رہے ہیں ۔ سوال : موجودہ بلوچ علیحدگی پسند جنگ میں خواتین کے کردار کو کس نگاہ سے دیکھتے ہیں ؟ ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ :خواتین کا کردار انتہائی حوصلہ افزا اور تسلی بخش ہے ۔ سوال : آئے روز بلوچ نوجوانوں کی مسنح شدہ لاشیں مل رہے ہیں کیا وجہ ہے کہ وہ اتنی آسانی سے خفیہ اہلکاروں کے شنکجے میں آجاتے ہیں ؟ ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ : سیاسی ورکرعام طورپر سرپیس جماعتوں میں کام کرتے ہیں ۔اس لئے آسانی سے ٹارگٹ ہوتے ہیں دوسری وجہ یہ کہ دشمن ان عام سیاسی ورکروں کو قتل واغواءکرکے یہاں خوف پھیلانا چاہتا ہے تاکہ لوگ آزادی کی موجودہ جنگ میں حصہ لینے سے گریز کریں مگر یہ ان کی غلط فہمی ہے اور وہ اس عمل سے مزید ناکامی کی طرف جارہے ہیں کیونکہ دشمن کو بلوچ کے مضبوط ارادوں کا اندازہ نہیں ہے ۔ سوال: سرکاری سرداروں اور ٹکریوں کا انجام کیا ہوگا نیز ان میں سے کتنے فیصد بلوچ جہد کے دوران قتل ہوجائیں گے ؟ ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ :میں قتل کا لفظ استعمال نہیں کرونگا البتہ بلوچ قوم ان کا احتساب ضرور کرے گی۔ میرے خیال میں حالیہ جنگ آزادی میں تمام سردار ماسوائے ایک کے سب کا کردار منفی ہے ہم ان کے موجودہ کردار کو جائزہ لیتے ہیں وہ بلوچ تحریک اور بلوچوں کے خلاف ہے میرے نزدیک یہ بلوچ روایات اور کلچر کے ( امین ) نہیں ہیں ۔ چند بکاﺅ مال ہیں ۔ سوال : وہ ایک سردار کون ہے ؟ ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ : نواب خیر بخش مری صاحب ہیں ۔ سوال : جو بلوچ اس وقت سرکاری وانتظامی پوسٹوں مثلاً آرمی ، ایف سی اور خفیہ ایجنسیوں میں ہیں ان کے لئے کیا پیغام ہے ؟ ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ : وہ بلوچ معمولی نوکری کی بجائے بلوچ سر زمین اور آزادی کو مقدم سمجھیں ۔ آزاد وطن میں ہر کسی کا وقار اور عزت ہوتا ہے کالونیل نظام میں نوکری محض تنخواہ کا ذریعہ ہے۔ سوال : تحریک کے نام پر چند مافیا اور خفیہ کام سرانجام دینے والوں کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے ؟ ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ : مافیا کے لوگوں کو تحریک آزادی کی تنظیموں نے متعدد بار تنبیہ کی ہے اور نشاندہی بھی کی گئی ہے میرے خیال میں صرف ہمارے اندر نہیں بلکہ جنگ آزادی میں کالونیل پاورز جنگ آزادی کو بدنام کرنے کی خاطر ہر جگہ یہی حربہ استعمال کرتے ہیں اور کررہے ہیں تاکہ جنگ آزادی کو بدنام کیاجائے اور جنگ جوﺅں کی ساکھ کو خراب کیاجاسکے ۔ سوال : آپ کے خیال میں لاپتہ بلوچوں کی تعداد اس وقت کتنی ہے ؟ ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ : تقریباً 14ہزار بلوچ لاپتہ ہیں اور ان کو خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی ، ایم آئی کے اہلکار اٹھاکر لے گئے ہیں جبکہ جنگ آزادی میں شہادتوں کا حساب کوئی نہیں رکھتا ۔ سوال : اس وقت تک کتنے بلوچ اپنے وطن سے ہجرت کرنے پر مجبور ہوئے ہیں کچھ اندازہ ہے ؟ ڈاکٹر اللہ نذر: لاکھوں میں جس کا اندازہ ممکن نہیں

سوال : کیا بلوچ سرمچار آنے والے وقت میں آزاد بلوچستان کےلئے فوجی کردار کے معیار پر پورا اتر سکیں گے ؟ ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ : بالکل اس معیار پر پورا اتریں گے کیونکہ آزاد وطن کےلئے لڑنے والی تنظیم ریاست کا نعم البدل ہے اور ان کی تربیت بھی اسی طریقے سے ہوتی ہے کہ وہ ریاستی ذمہ داری سنبھال سکیں میرے نزدیک بلوچ گوریلا وطن کی آزادی کے بعد ریاستی امور خوش اسلوبی سے سرانجام دے سکیں گے ۔ سوال : کیا آپ موجودہ آزادی کے جہد کو کافی سمجھتے ہیں یا اس میں مزید جہد کی ضرورت ہے ؟ ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ : بہتری کی ہر وقت اور ہر لمحہ گنجائش ہے اور اس میں مزید جہد کی ضرورت ہے میری یہی رائے ہے کہ اس وقت سخت جہد کی ضرورت ہے تاکہ دشمنی خود مجبور ہو کر وطن کو چھوڑ دے ۔ سوال : کیا پچھتاوے کا خیال دل میں آیا کہ اتنے لوگ غائب اور شہید کئے جارہے ہیں آگے انجام کیا ہوگا ؟ ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ : کوئی پچھتاﺅا نہیں ہے۔ یہ جنگ قربانی کی جنگ ہے اور بغیر قربانی منزل پر پہنچا نہیں جاسکتا جنوبی سوڈان میں 5لاکھ لوگ آزادی کےلئے شہید ہوئے اور کیا ان کو پچھتاوا ہوا ؟بلوچ بھی آزادی کی جنگ لڑ رہی ہے ہوسکتا ہے کہ دشمن آگے آنے والے وقتوں میں مزید جبر کا مظاہرہ کرے مگر ہمارے لوگ بہادر ہیں ۔پچھتاوا اس وقت ہوتا ہے جب کوئی مقصد نہ ہو ہمارا مقصد صاف ہے کہ ہم اپنے وطن کے آزادی کےلئے لڑ رہے ہیں شہید ہورہے ہیں لہذا بلوچ کو فخر ہے اور وہ مزید قربانی کےلئے تیار ہے سوال: بعض حلقوں کا کہنا ہے کہ صوبائی خود مختاری دینے سے آزادی پسند سوچ کم ہوگی اس کے بارے میں آپ کیا کہتے ہیں ؟ ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ : یہ غلط تاثر ہے ۔اس تاثر کو ریاست کے TOUTS دے رہے ہیں صوبائی خود مختاری صرف دھوکہ ہے ،ایک فراڈ ہے اور مراعات یافتہ طبقہ کےلئے روپیہ جمع کرنے کا ذریعہ ہے یہ پارلیمنٹ کے ممبران کو خوش رکھنے اور کھپانے کے علاوہ کچھ بھی نہیں ۔ سوال : گرفتاری کے وقت کیا محسوس ہورہا تھا ؟ ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ : غلامی کا احساس زیادہ ہورہا تھا اور اپنی غلامی پر پختہ یقین ہوا ۔ سوال : رہائی کے بعد کیسا محسوس کرتے تھے ؟ ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ : جنگ آزادی میں شامل ہونے اورازسر نو جدوجہد کا فیصلہ کیا۔ سوال : کس وقت آپ زیادہ خوش ہوتے ہیں ؟ ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ : انسانی خصلت ہے ہر اچھے کام پر خوش ہوتا ہے اور بعض معاملات پر درد بھی محسوس کرتا ہے یہ دونوں چیزیں نہ ہوں تو انسان کوانسان نہیں کہاجاسکتا ۔ سوال : زندگی کا مشغلہ کیا ہے ؟ ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ :آزادی کےلئے جدوجہد اورمطالعہ ۔ سوال : کس چیز کا مطالعہ کرتے ہیں ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ :جنگ آزادی کے بارے میں ،جنگی سپاہیوں کی سوانح حیات ، تاریخ ، فلسفہ ، مذہب ، شاعری غرض ہرقسم کے مطالعہ میں دلچسپی رکھتا ہوں ۔ سوال : کتنی زبان بول اور سمجھ سکتے ہیں ؟ ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ :بلوچی ، براھوی ، اردو میں بات کرسکتا ہوں جبکہ انگریزی سمجھ سکتا ہوں ۔ سوال : سننے میں آیا ہے کہ آپ سگریٹ زیادہ پیتے ہیں خاص وجہ ؟ ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ : عادت بن گئی ہے شروع شروع میں کم پیتا تھا اب زیادہ پینے لگا ہوں تاہم کبھی کبھی چھوڑنے کی کوشش بھی کرتا .ہوں سوال :شکار کھیلنے کا شوق رکھتے ہیں؟ ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ : بالکل ۔ سوال : آپ کا آئیڈیل کون ہے ؟

ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ : ہر وہ انسان جس نے اپنی آزادی کی جنگ جاری رکھی ہوئی ہے ۔ سوال : کھیل میں لگاﺅ رکھتے ہیں ؟ ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ : کھیل کا شوق تھا مگر اب فرصت نہیں ۔ شطرنج ، والی بال ، ٹیبل ٹینس شوق سے کھیلتا تھا ۔ سوال : زندگی میں کسی سے عشق ہوا ہے ؟ ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ : جی ہاں وطن کے ساتھ ۔ سوال : زندگی میں آخری بار کب اور کیوں روئے تھے ؟ ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ : شاید ایسے مرحلے آتے ہیں مگر کچھ نہیں کہہ سکتا ۔ سوال : آپ کی کمزوری کیا ہے؟ ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ :اس کو چھوڑدیں ۔ سوال : غصہ کس چیز پر آتا ہے ؟ ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ : نوکمنٹس سوال: موت سے ڈر لگتا ہے ؟ ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ : موت برحق ہے اس سے کیا ڈرنا ۔ سوال : اکثر سیاسی لیڈر ایک سے زیادہ بیویاں رکھتے ہیں مگر آپ نے ایک شادی کی ، کیوں؟ ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ : بڑی بات یہ کہ میں سیاست دان نہیں ہوں میں صرف جنگ آزادی کا سپاہی ہوں ۔ سوال : کون سا جانور پسند کرتے ہو ؟ ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ : چکور اور پہاڑی بکرا پسند ہیں ۔ سوال : پسندیدہ رنگ کو ن سا ہے ؟ ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ : زرد، سفید، ہلکا سبز اور سرخ سوال : ہتھیار کون سا پسند ہے ؟ ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ : جو ہتھیار ہاتھ میں ہو ۔ بلوچوں کےلئے کیا پیغام ہے ؟ وہ جنگ آزادی کےلئے دشمن کے منفی چال کو سمجھیں اورجنگ آزادی میں شامل ہوجائیں اس لئے کہ دشمن بہت مصیبت میں ہے، وہ تنگ ہے ،کمزور ہے اور دشمن جنگ آزادی کے خلاف اغواءاور نئے نئے ٹولز استعمال کررہا ہے پھر بلوچ کا فرض ہے کہ دشمن کے ان حربوں کو جانچے اور اپنے اندر اتحاد پیدا کرکے ایک ہوجائے۔